‏ذخیرہء الفاظ

‏ بات ہے 1983 کی، والد صاحب پاکپتن میں سرکاری ملازم ہوا کرتے تھے، اس روز مہینے کی تنخواہ آئی تو ابو کی شفقتِ پدرانہ نے جوش مارا اور کہا کہ چلو آج تمھیں روسٹ کھلائیں، برائلر ان دنوں (یا کم از کم میری ہوش میں) نیا نیا مارکیٹ میں آیا تھا اور  شادیوں میں چکن روسٹ لیگ پیس ان دنوں امراء کا ایک لگژری آئٹم تصور ہوا کرتا تھا، ہم دونوں بھائیوں نے ابو کے دائیں اور بائیں ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھامی (ہم عمر بھر یونہی ابو کے دائیں اور بائیں چلتے رہے) اور یوں ریلوے روڑ پہ ڈاک خانے کی برابر واقع اس وقت کی سرکاری کالونی سے واک کرتے ہوئے مین بازار کے پیچھے جگہ جو ان دنوں ایک خالی گراؤنڈ ہوا کرتا تھا کو کراس کر کے کارخانہ روڑ پہ  نئے نئے کھلے شالیمار ریسٹیورینٹ اینڈ کیفے کی جانب چل پڑے، ایک کم سن بچے کے ذہن کے ذخیرہ الفاظ میں اس روز جن پانچ نئے الفاظ کا اضافہ ہوا ان میں پہلا لفظ شالیمار اور دوسرا فِش ایکورئیم (جو کہ اس روز ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا اور یہ سمجھا تھا کہ مچھلیاں سمندر کے علاوہ عمارت کے اندر بھی کسی جگہ تیر سکتی ہیں)، اس دن کے بعد ہمارے لاشعور میں شالیمار لفظ فش ایکورئیم کے ساتھ منسلک ہوگیا، بعد کی زندگی میں بھی جب جب لفظ شالیمار پڑھا ذہن میں فش ایکورئیم ہی ابھرا اور جب کہیں فش ایکویریم دیکھا تو شالیمار یاد آیا۔ اس وقت یہ سب ہمارے لئیے بالکل نئی بات تھی، ریسٹورینٹ پہنچے، ابو نے دونوں بیٹوں کیلئیے ایک ایک روسٹ لیگ پیس کا آرڈر دیا اور انتظار کرنے لگے، اس دوران شالیمار ریسٹیورینٹ کے کاونٹر پر مینجر کے پاس پڑے ہوئے سونی کے رنگین ٹی وی پر جس پر ڈش انٹینا کے ذریعے ایک امریکی چینل نشر ہو رہا تھا(سُنا تھا کہ ہوٹل کا مالک امریکہ سے ڈش انٹینا لے کر آیا ہے اور یہ انٹینا عام پی ٹی وی دیکھنے والے انٹینا کہ مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوتا ہے اور اس پر زیادہ چینل آتے ہیں) ہمارے لاشعور میں لفظ چینل تیسرا نیا لفظ تھا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ کسی ٹی وی پر پی ٹی وی کے علاوہ کچھ اور کیسے  نشر ہو سکتا ہے؟ ڈش انٹینا ہماری لغت میں اس روز چوتھا نیا لفظ تھا۔ ٹی وی کا والیوم نہایت مدھم تھا، اس دوران نظر پڑی تو دیکھا کہ ٹی وہ سکرین پر ایک شخص بری طرح تشنج کی حالت میں چلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن درد کے مارے کبھی کمر پہ ہاتھ رکھتا ہے اور کبھی مدد کیلئیے ہاتھ بلند کرتا ہے مگر کوئی اس کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ لوگ الٹا تالیاں بجا رہے ہیں، انسانیت کی اس قدر تذلیل ہم نے اپنی اس وقت کی مختصر زندگی میں پہلے نہیں دیکھی تھی۔ ہمارے دل میں ہمدردی کا شدید جذبہ موجزن ہوا اور اس شخص کے ارد گرد جمع لوگوں پر شدید غصہ آیا، اس دوران دیکھا کہ درد میں مبتلا شخص بے چارہ آگے چلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جتنا آگے جانے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی پیچھے چلا جاتا ہے۔ ہم نے والد صاحب کی انگلی کھینچ کر  اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے ٹی وی سکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روہانسی آواز میں پوچھا “ابو، اِسے کیا ہوا ہے؟” ہم ہمدردی، قلق، رنج اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں ایک آدھ جملہ اور ادا کرتے تو یقیناً رو دیتے، ابو نے ٹی وی سکرین کی طرف دیکھا اور صورتحال بھانپتے ہوئے جواب دینے کی بجائے ہمارے آنکھوں کے آگے اپنا ہاتھ رکھ دیا، ابو سمجھ گئے تھے کہ ایک بچے کے ناپختہ ذہن پہ ایسی ٹریجک صورتحال کا نقش رہ جانا مناسب نہیں۔ چند لمحات میں ہم نے گردن گھما کر توجہ دوسری جانب کر لی تو ابو نے ہاتھ ہٹا لیا۔ اس دوران ابو ہمیں ریسٹورینٹ مینجر کی سپردداری میں چھوڑ کر کچھ دیر کیلئیے واش روم گئے تو ہم نے اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے اور اپنے سوال کو شعوری اور منطقی طور پر بہتر تراش کر مینجر صاحب سے پوچھا “انکل، یہ کون ہے؟” مینیجر انکل نے ہماری جانب غور سے دیکھا اور جواب دیا۔۔”مائیکل جیکسن” ۔۔اس روز لفظ مائیکل جیکسن ہمارے لغت میں پامچویں لفظ کا اضافہ تھا، اس روز تاریخ چودہ فروری انیس سو تراسی تھی اور مائیکل جیکسن نے اپنا گیت “بِیٹ اِٹ” ریلیز کیا تھا جس میں اس نے پہلی بار مون واک کا مظاہرہ کیا تھا۔

Leave a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Website Powered by WordPress.com.

Up ↑