'باپ سروں کا سایہ ہوتا ہے، ایک سائبان کی طرح' چھوٹی داڑھی اور سر پر نماز کی جالی دار ٹوپی والے صاحب کہہ رہے تھے۔ 'آپکا غم بہت بڑا ہے، اللہ رب العزت آپ کو صبر جمیل اور آپ کے والد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے' وہی صاحب بات کر رہے تھے۔میں در... Continue Reading →
کانٹا
یہ ملاقات بائیس برس کے بعد ہونا تھی، ان بائیس برسوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا، بائیس برس قبل کا ہمارا صرف تعلق نہیں تھا، ہمارا یارانہ تھا، ایسا یارانہ جسے اثاثہ کہا جا سکے۔ دن رات کا تعلق، دکھ درد کا تعلق، سٹوڈینٹ لائف میں گلبرگ فردوس مارکیٹ... Continue Reading →
بلیو اوور کوٹ
گُرنیک سنگھ بھی چل بسا، چوبیس برس سے زائد ہوا چاہتے ہیں کہ اس پردیس دھرتی پر ہمارے قدم نئے نئے وارد ہوئے تھے، نائن الیون کے بعد کا دور اور ہر سو غیر یقینی صورتحال کا دور دورہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب یہاں کے جنم باسیوں کیلئیے بھی نوکریاں مشکل ہو چکی... Continue Reading →