کیلگری، البرٹا ویک اینڈ پہ ایک شام اور میں ایک عزیز کے ہاں کھانے پہ مدعو تھا۔ میں شیل آئل کمپنی کے پروجیکٹ کے سلسلے میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کیلگری میں مقیم تھا جبکہ فیملی اونٹاریو میں ہی رہی کہ بچے گھر نہیں بدلنا چاہتے تھے، لہٰذا چار و نا چار مجھے ہر دس پندرہ دن کے بعد کیلگری اور ٹورنٹو کے درمیان ہوائی سفر کرنا پڑتا تھا۔ سو، میں اس دعوت پہ پہنچا تو ہمارے میزبان کے درجن بھر سے زائد دیگر دوست احباب بھی مدعو تھے، اب مسئلہ یہ تھا کہ میں ان میں سے سوائے میزبان کے کسی کو بھی نہیں جانتا تھا اور وہ سب کے سب یا تو پرانے دوست تھے یا کولیگز، اس بات کا اندازہ میں نے انکی آپس کی بےتکلفی، خوش گپیوں اور ایک دوسرے کو نام لے کر پکارنے سے لگایا، میں خاموشی سے گھر کے مہمان خانے میں ایک طرف بیٹھا تھا، میں نے محسوس کی میرے برابر میں بیٹھے ایک صاحب تقریباً میری ہی عمر کے اور میری طرح ہی خاموشی سے بیٹھے مشاہدہ کر رہے ہیں، لہٰذا میں نے بوریت دور کرنے کیلئیے ہلکی پھلکی گفتگو شروع کرنے کا سوچ کر پہل کر لی۔ ابتدائی سلام دعا اور تعارف کے بعد میں نے بات بڑھانے کی غرض سے پوچھا۔۔
“تو آپ بھی میری طرح یہاں کسی کو نہیں جانتے اور اس لئیے خاموش ہی بیٹھے ہیں؟”
‘ایسا نہیں ہے، میں ایک دو کو جانتا ہوں مگر میری طبیعت ذرا مختلف ہے’
“اچھا۔۔وہ کیسے؟” ۔ ۔ میں نے بات بڑھانے کی غرض سے دلچسپی لیتے ہوئے استفسار کیا
‘میرا رجحان ذرا فنونِ لطیفہ کی طرف ہے۔۔یہ سب بےفکرے اور بےذوق سے لوگ ہیں اسی لئیے ہا ہا ہو ہو میں مصروف ہیں۔۔ ان میں سے کسی کو بھی ایسی چیزوں سے دلچسپی نہیں’ انہوں نے جواب دیا
“ارے واہ۔۔موسیقی اور لکھنے لکھانے سے تو مجھے بھی دلچسپی ہے، آپ بتائیں کیا آپ بھی لکھتے ہیں؟” میں نے سوال کیا۔
‘میں دراصل کلاسیکی موسیقی کا شوق رکھتا ہوں، خاص طور پر طبلہ مجھے بہت پسند ہے۔ اب یہاں کسی کے سامنے طبلے کا نام لیں تو یہ مذاق اڑانے لگیں گے، اسی لئیے کہا تھا کہ یہ سب بے ذوق اور بےسُرے لوگ ہیں’ انہوں نے جواب دیا۔
“ارے کیا کمال اتفاق ہے، طبلہ تو مجھے بھی پسند ہے، میں تو کل ہی استاد تاری خاں کی ویڈیو دیکھ رہا تھا” میں نے کہا۔
‘آپ استاد تاری خاں کو جانتے ہیں؟’ وہ صاحب ایک دم حیرت اور خوشی سے اچھلے۔
“جی مجھے تو استاد تاری بہت پسند ہیں، اگر استاد نصرت فتح علی خاں صاحب کو استاد تاری پسند تھے تو ہم تو کسی قطار میں ہی نہیں” میں نے جواب دیا۔
‘مگر استاد نصرت فتح علی خاں کے ساتھ تو استاد دلدار حسین پِدو نہیں ہوتے تھے؟’ ان صاحب نے پوچھا۔
“جی۔۔استاد دلدار پِدو نے استاد نصرت کے ساتھ سب سے زیادہ بجایا ہے مگر استاد پِدو سے پہلے نصرت صاحب باقاعدہ استاد تاری کو بُلا کر ان سے پروگرامز میں سنگت کروایا کرتے تھے” میں نے جواب دیا۔
‘ارے یار آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی، آج کل کہاں ایسے باذوق لوگ ملتے ہیں جو آرٹ کو سمجھتے ہوں، اب آپ استاد تاری کا کہروا ہی دیکھ لیں، جی انکے جیسا کہروا ، تین تال اور نغمہ کون بجا سکتا ہے؟ آئے ہائے ہائے۔۔ تین تال کا ایسا قاعدہ یعنی ترکھٹ پڑھنا کم از کم میں نے تو کسی اور بڑے سے بڑے استاد سے بھی نہیں سُنا، استاد تاری کے استادِ محترم استاد قادر علی شگن مرحوم کو بڑا فخر ہو گا ان پر’ ۔۔وہ صاحب بولنے پہ آئے تو بولتے چلے گئے۔
“جی درست فرمایا آپ نے۔۔مگر یہ ہے کہ استاد تاری خاں کے استاد قادر علی شگن نہیں بلکہ استاد میاں شوکت حسین تھے” میں نے تصحیح کی۔
وہ صاحب ذرا مرعوب نظر آئے۔۔’او اچھا۔۔۔میں غلط سمجھا۔۔۔اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟..کیا آپ طبلہ بجا لیتے ہیں؟۔۔۔میرا مطلب کیا آپ نے باقاعدہ تربیت لی ہے؟..انہوں نے پوچھا۔
” ارے نہیں۔۔۔بالکل بھی نہیں۔۔میں نے تو استاد تاری خاں کی یوٹیوب پر چند ویڈیوز دیکھی تھی وہاں سے پتہ چلا تھا, بلکہ میں تو آپ سے پوچھنے والا تھا کہ آپ ماشاءاللہ سے اتنی اصطلاحات سے واقف ہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور بجا لیتے ہونگے، باقاعدہ سیکھے ہوئے لگتے ہیں”..میں نے انکی برتری تسلیم کرتے ہوئے جواب دیا۔
‘نہیں سر، بالکل بھی نہیں۔ ۔ میں بھی پچھلے ویک اینڈ پر ہی استاد تاری خاں کی یوٹیوب ویڈیوز دیکھ رہا تھا’ ان صاحب نے جواب دیا۔
لاشعوری طور پر ہم دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو ذرا پیچھے ہٹ کر دیکھا، اور پھر ہماری گفتگو بوجوہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکی۔۔
ماہرین
Leave a comment