نِکا ٹی وی، وٹا اور ٹائپ رائیٹر


لاہور کی صبحیں ہمیشہ سے ایک خاص تازگی رکھتی ہیں — دھوپ کی نرم کرنیں، درختوں کے سائے، اور گلیوں میں اٹھتی چائے کی بھاپ۔ انہی صبحوں میں سے ایک صبح، میں گارڈن ٹاؤن کے اس چھوٹے مگر ابھرتے ہوئے تعلیمی ادارے میں ایڈمنسٹریٹر کی نئی ذمہ داری سنبھال رہا تھا، ہوا یوں کہ لاہور میں “اعلیٰ تعلیم” سے فارغ ہونے کے بعد پہلی ملازمت ایک تعلیمی ادارے میں بطور کمپیوٹر لیب مینیجر ملی۔ 

گارڈن ٹاؤن، برکت مارکیٹ کے پاس واقع یہ تعلیمی ادارہ، جو آج کل ایک بڑا ادارہ بن چکا ہے، اُس وقت اپنے ابتدائی دنوں میں تھا اور طلبہ کی تعداد بھی یہی کوئی پانچ چھ سو سے زائد نہ تھی۔ غالباً ستانوے یا اٹھانوے کا دور تھا اور ہم کہ آتشِ جواں تھے — بھرپور توانائیاں، نئے آئیڈیاز اور محنت کا جذبہ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر لیب، جو پہلے کافی مسائل کا شکار تھی، بہتر توجہ اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی اور طلبہ و طالبات کی شکایات رفع ہونے لگیں۔

کچھ ہی عرصے میں عمدہ کارکردگی کی بنا پر انتظامیہ نے ہمیں پروموٹ کرتے ہوئے کالج کے ایڈمنسٹریٹر کی ملازمت کی پیشکش کر دی۔ بہتر تنخواہ اور پہلے سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ والی جاب دیکھتے ہوئے ہم نے آفر فوراً قبول کر لی۔ اب کالج کے چیئرمین اور پرنسپل کے بعد انتظامی اختیارات اور فیصلہ سازی مکمل طور پر ہمارے پاس تھی۔ 
یہ وہ دن تھے جب موبائل فون عام نہیں تھے، ای میل کا استعمال بھی محض ذاتی میل باکس تک محدود تھا۔ لہٰذا آفس ورک کا زیادہ تر طریقِ کار روایتی ہی تھا — سارا دن کاغذی فائلیں ادھر سے اُدھر جاتیں اور اپروول نوٹ فائلوں میں ایک دوسرے کے اوپر لگائے جاتے رہتے۔

انہی دنوں مجھے ایک آفس بوائے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کا ذکر میں نے کالج کے سکیورٹی آفیسر بھاء شوکت سے کیا۔ بھاء شوکت کا تعلق گجرات سے تھا اور بقول اُن کے وہ سابق کمانڈو تھے۔ بھاء شوکت کو ہم نے کالج کے سرونٹ کوارٹرز میں ہی رہائش دے رکھی تھی، اور وہ اپنے ساتھ تین دیگر گارڈز کی ٹیم کے بھی انچارج تھے۔ بہت باتونی تھے۔ اکثر شام کو چھٹی کے وقت میں اپنا یاماہا موٹر سائیکل لے کر نکلنے لگتا تو ملیشیا کی شلوار قمیض پر کمر کے گرد بیلٹ لگائے اور سر پر سکیورٹی ٹوپی پہنے درمیانے قد اور بڑی چھجّے دار داڑھی والے بھاء شوکت فوراً کرسی سے اٹھ کر آ جاتے اور بائیک کا ہینڈل پکڑ کر کہتے،  “او چوہدری صاب، تہاڈے نال اک نکی جئی گل کرنی سی۔” 
اور پھر یہ “نکی جئی گل” پچپن منٹ کی گفتگو کے بعد میرے معذرت کرنے پر بمشکل ختم ہوتی۔

ساری گفتگو کا لبِ لباب یہ ہوتا کہ بھاء شوکت کو دو دن کی چھٹی چاہیے ہوتی، مگر وہ گفتگو کی شروعات یوں کرتے کہ گجرات اپنے محلے سے بات شروع کرتے، وہاں کسی کا قتل ہو چکا ہوتا، قاتل نے جو گن استعمال کی ہوتی وہ روس سے اسمگل ہو کر آئی ہوتی، روسی گنوں کی طویل تعریف و توصیف کے بعد انہیں روس کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے اثر پر اُنہیں تشویش ہوتی، اور پھر وہ بات سے بات نکالتے ہوئے کسی اور وادی کی سیر کو نکل جاتے۔ اس دوران میں موٹر سائیکل پر بیٹھا، ہاتھ میں ہیلمٹ تھامے، اُن کی داستان گوئی پر سر ہلاتا رہتا۔

میں نے آفس بوائے کی ضرورت کا ذکر بھاء شوکت سے کیا اور انہوں نے غالباً آفس کی صفائی کرنے والی خاتون سلمٰی سے کر دیا۔ اگلے روز صبح سلمٰی میرے پاس آفس میں آ گئی۔ 
“سر، سُنیا تہانوں ایتھے کم والا مُنڈا چاہیدا؟ تہانوں میں مُنڈا لیان دیاں؟” 
سلمٰی نے پوچھا۔ 
سلمٰی تیس بتیس سال کی درمیانے قد اور گندمی رنگت کی شادی شدہ خاتون تھی۔ کوٹ لکھپت سے آتی تھی۔ خاوند غالباً سینیٹری ورکر تھا۔ میں نے اس سے پہلے اُس پر کبھی خاص توجہ نہیں دی تھی کیونکہ سلمٰی کو ہینڈل کرنے کا اختیار میں نے رسیپشنسٹ مس منزہ اور مس آمنہ کو دے رکھا تھا۔ اُس دن بہرحال سلمٰی میرے پاس براہِ راست آئیں۔

میں نے کہا، “جی سلمٰی، ہمیں ضرورت تو ہے، کیا آپ کسی کو جانتی ہیں؟” 
“ہاں جی، میری دیورانی کے لڑکے ہیں، وہ دونوں آ جایا کریں گے جی۔” 
میں نے کہا، “مگر ہمیں ضرورت تو ایک کی ہے۔” 
“کوئی گل نئیں جی، دونویں آ جایا کرن گے، تسی جو دینا ہویا دے دینا۔” 
میں بھی مصروف تھا، تو زیادہ بات بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے کہا، “چلیں بہتر، آپ اُن کو بھیج دیجیے گا۔”

اگلے دن سلمٰی کام پر آئی تو اُس کے ہمراہ دو نو عمر بچے تھے۔ بڑے کی عمر بمشکل نو دس سال اور چھوٹے کی عمر شاید سات سال۔ 
“ارے یہ تو بہت چھوٹے ہیں؟” میں نے سلمیٰ سے کہا۔ 
“کوئی گل نئیں جی، سارا دن گرمی وچ باہر مٹی وچ کھیڈدے سن، ایتھے ٹھنڈی جگہ رہن گے، نالے تہاڈا کم سر جائے گا۔ تسی جو دینا ہویا دے دینا” 
کام کچھ زیادہ محنت طلب نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہ ایک آفس سے فائل دوسرے تک پہنچانی تھی یا کبھی کبھار کینٹین والے کو چائے کا آرڈر دینا تھا۔ میں نے کچھ سوچا اور لڑکوں سے مخاطب ہو کر اُن کو کام بتایا اور پوچھا کہ کیا وہ یہ کام کرنے پر رضامند ہیں؟ 
بڑے لڑکے نے آہستگی سے، سہمے سہمے انداز میں جواب دیا، “جی، کر لیں گے جی۔” 
چھوٹے نے جواب دینے کی بجائے بڑے بھائی کی طرف دیکھنے پر ہی گزارا کیا۔

میں نے تنخواہ بتائی تو وہ فوراً رضامند ہو گئے، جو کہ غالباً اُن کی توقع سے زائد تھی۔ نام پوچھے تو بڑے بھائی نے اپنا نام آصف ایلبرٹ بتایا اور چھوٹے نے جاوید ایلبرٹ۔ 

چھوٹا بہت معصوم اور شرمیلا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں شرارت ٹپکتی تھی مگر وہ شرارت کبھی نہیں کرتا تھا۔ دونوں لڑکوں نے بہت جلد تمام اسٹاف کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ دن بھر مین رسیپشن ایریا کے ایک کونے میں دبکے رہتے۔ کوئی کام کہتا تو آصف نہایت مستعدی سے سُنتا اور کام کرنے چلا جاتا۔ جاوید اُس کی قمیض کا پچھلا کونا پکڑ کر اُس کے پیچھے پیچھے چلا جاتا۔ دن بھر اُن کی یہی روٹین رہتی۔ چھوٹا بھائی جاوید کبھی بھی اکیلا کسی کام کے لیے نہ جاتا۔

کبھی کبھار رسیپشنسٹ مس آمنہ جاوید کو کمپیوٹر لیب بھیجتیں تو وہ جانے کی بجائے بڑے بھائی آصف کی طرف دیکھنے لگتا۔ آصف کبھی کبھی خود بھی اُسے کہتا کہ “جیدی جا، چلا جا، کچھ نئیں ہوندا۔” مگر جیدی اصرار کرتا کہ “آچھو، توں میرے نال چل۔” 
وہ ایک دوسرے کو آچھو اور جیدی کہتے تھے۔ کچھ ہی دنوں میں بچے ماحول سے مانوس ہو گئے۔ میں اکثر جیدی کو پاس بلا کر چھیڑنے کے لیے کہتا کہ “چھوٹو، اب تم تیار ہو جاؤ، اب تم نے کام کیلئیے جانا ہے اور آصف کو ساتھ نہیں لے کر جانا۔” 
وہ شرما جاتا اور اُس کی معصوم مسکراہٹ آنکھوں میں شرارت بن کر ٹپکنے لگتی۔ وہ بہت کم بولتا، بولتا بھی تو ایک دو لفظ اور تقریباً سرگوشی میں، جسے اکثر آصف کان لگا کر سنتا اور ہمیں بتاتا کہ “سر، یہ کہہ رہا ہے ‘مجھے نہیں پتا’..

آصف اپنی عمر کے لحاظ سے کافی پُر اعتماد اور ہم سب سے مانوس ہو چکا تھا، اسے روزانہ صبح صاف ستھرے کپڑے پہن کر آفس کے ماحول میں آنا اچھا لگتا تھا۔ دونوں بچے کبھی سکول نہیں گئے تھے، ایک دن مس منزہ گھر سے بنیادی اردو اور انگریزی کی پرانی کتب لے آئیں، اب ہوتا یہ کہ گرمیوں کی دوپہر کو جب سٹوڈنٹس کا رش کم ہو جاتا تو مِس منزہ یا مِس آمنہ دونوں بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے لگتیں۔ دونوں بچوں کا شوق دیدنی ہوتا۔ وہ خود کو اس تعلیمی ماحول کا حصہ سمجھنے لگتے، اکثر شام کو گھر جانے لگتے تو اداس ہو جاتے اور اگلے دن صبح ہی ایک ‘شاپر بیگ’ میں قاعدے لیے پہنچ جاتے۔ وہ روزانہ لنچ بھی ہمارے ساتھ کرتے یوں ایک فیملی کا حصہ بنتے گئے۔
ایک دن میں صبح آفس پہنچا تو دیکھا کہ رسیپشن پر سلمٰی فرش پر بیٹھی رو رہی اور ناک پونچھتے ہوئے شوں شوں کر رہی ہے اور مس منزہ اسے دلاسہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پہلے تو میں قدرتی طور پر متجسس ہو کر رکنے لگا مگر میرا ذہن پہلے ہی کئی اور مسائل میں الجھا ہوا تھا لہٰذا میں اپنا خیال ترک کر کے آگے بڑھ گیا کہ اگر کچھ ضروری ہوا تو مِس منزہ ذکر کر ہی دیں گے، اور وہی ہوا مِس منزہ کو جیسے ہی فراغت ملی وہ آفس آ گئیں اور بتانے لگیں کہ صبح سلمٰی رو رہی تھی اور مطالبہ کر رہی تھی کہ دونوں لڑکوں کو فارغ کر دیں، میں نے حیرت زدہ ہو کر مس منزہ سے پوچھا کہ ‘بھئی وہ کیوں؟ ان بچوں کو تو اس نے خود اصرار کر کے ہائیرکروایا ہے’..
مِس منزہ نے جواب دیا کہ ‘ سر پتہ نہیں کہہ رہی تھی کہ میری دیورانی نے مجھ پر کالا جادو کیا ہے، آپ ان کو نکال دیں، میں آپکو کام کیلئیے اور لڑکا لا دوں گی’۔۔
میں نے مِس منزہ سے پوچھا کہ کیا آپکو کام کے حوالے سے چُنوں مُنوں سے کوئی شکایت ہے؟ ہم سارے سٹاف نے جانے کب آصف اور جیدی کا نام چُنوں مُنوں رکھ لیا تھا۔ مِس منزہ نے جواب دیا ‘ بالکل بھی نہیں سر۔۔۔وہ تو اتنے اچھے بچے ہیں۔۔اب تو کچھ کچھ پڑھنا لکھنا بھی سیکھ گئے ہیں’۔
میں نے جواب دیا۔۔’دیکھیں مِس۔۔میں آپکو بتا دیتا ہوں۔۔یہ وہی روایتی دیورانی جیٹھانی کی لڑائی ہے، پہلے دونوں کی خوب بنتی تھی تو کام پہ لگوا دئیے، اب غالباً کسی بات پہ ان بن ہو گئی ہے تو کام سے نکلوانا چاہ رہی ہے، آپکے خیال میں دیورانی جیٹھانی کی لڑائی کا اثر دونوں بچوں پر پڑنا چاہئیے؟’
‘بالکل بھی نہیں سر، یہ تو اتنے اچھے بچے ہیں کہ مجھے تو یہ سوچ سوچ کر دُکھ ہو رہا تھا کہ یہ اب چلے جائیں گے۔ میں نے تو ایسے سوچا ہی نہیں تھا آپکا بہت بہت شکریہ سر۔ ۔ اب تو میں ان بچوں کو کہیں بھی نہیں جانےدوں گی’ مِس منزہ کی تو جیسے آنکھیں کھل گئیں، وہ پہلے غالباً سلمٰی کے آنسوؤں سے متاثر ہو گئی تھیں۔

اسی دن شام کو سلمٰی کالج میں پھر نظر آئی حالانکہ یہ اسکی ڈیوٹی کا وقت نہیں تھا، وہ شاید مِس منزہ سے جواب پوچھنے آئی تھی، صبح جب وہ آئی تو مِس منزہ نے اسے کہہ دیا کہ میں عمران صاحب سے بات کر کے جواب دوں گی اور اب وہ جواب کیلئیے آئی تھی،اور پھر مِس منزہ نے اسے صاف جواب دے دیا۔

دوسرے روز صبح میں آفس پہنچا تو سلمٰی پہلے سے میرے انتظار میں تھی، میں لیپ ٹاپ بیگ لئیے آفس کی جانب چل رہا تھا تو وہ میری جانب لپکی، میں نے رُکے بغیر اسے کہا ‘آپ نے جو بات کرنی ہے رسیپشن سے کریں’
وہ رازدارانہ لہجے میں بولی’سر میری گل تے سُنو۔۔سر ایناں دی ماں بڑی وڈی جادوگرنی جے۔۔تہانوں نئیں پتہ۔۔اوہنے تہاڈے تے جادو کیتا ہویا اے’..
میں نے کہا۔۔’سلمٰی میں نے آپ سے کہا نا کہ آپ نے جو بات کرنی ہے مِس منزہ سے کریں اور مجھ پر جادو وغیرہ اثر نہیں کرتے’ یہ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا لیکن میں نے محسوس کیا کہ سلمٰی کے چہرہ پہ شدید مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

چُنوں اور مُنوں اب فارغ وقت میں جب سٹوڈنٹس کم ہوتے تو کمپیوٹر لیب میں کرسیوں پر جا کر بیٹھ جاتے، اب ان کی ذمہ داریوں میں کبھی کبھار کمپیوٹر کے خراب کی بورڈ یا ماؤس  لیب سے آفس اور آفس سے لیب لے کر جانا بھی شامل ہو گیا تھا، اس دن وہ چپ چاپ لیب میں بیٹھے تھے اور لیب انچارج ثقلین صاحب نے انکو بیٹھے دیکھا تو انکو ایک خیال سُوجھا۔ ۔وہ بولے ‘اوئے چُنوں مُنوں۔۔تمھیں پتہ ہے یہ کیا ہے؟’ انھوں نے ایک کمپیوٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا.

‘جی سر۔۔’ آصف نے جواب دیا۔۔’یہ نِکا ٹی وی۔۔یہ وٹا۔۔یہ ٹائپ رائٹر ہے’ آصف نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے اپنی اصطلاحات خود ہی تراشی ہوئی تھیں۔ ہم اس دن بہت ہنسے۔۔ثقلین صاحب نے انہوں کمپیوٹر آن کر کے ایم ایس پینٹ  آن کر کے دے دیا اور بتایا کہ ماؤس کیسے استعمال کرنا ہے، رسیپشن پر قاعدہ پڑھتے پڑھتے وہ انگریزی کے بنیادی حروف تہجی اور چند بنیادی الفاظ سے اب واقف ہو گئے تھے۔ اس دن پہلی بار دنوں بھائیوں نے کی بورڈ پر ایک ایک کر کے حروفِ تہجی تلاش کئیے تو وہ بہت خوش تھے۔

اب جیسے ہی لیب سے سٹوڈنٹ چلے جاتے تو وہ ثقلین صاحب کے پاس جا کر خاموشی سے بیٹھ جاتے وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر انکو ایم ایس پینٹ لوڈ کر دیتے اور دنوں بھائی اپنی عمر کے مطابق بچپنے کے تصورات کی دنیا میں کھو جاتے۔ ایک دن میں کمپیوٹر لیب میں گیا تو دیکھا کہ دونوں بھائی ایم ایس پینٹ میں پاکستان کا پرچم بنا کر دل دل پاکستان تحریر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دن مجھے بہت خوشی ہوئی، مجھے ایک آئیڈیا آیا میں نے ثقلین صاحب سے پوچھا کہ کیا انکے پاس کوئی پرانا کی بورڈ پڑا ہے؟ ثقلین صاحب نے بتایا کہ سر سٹور میں بے شمار پرانا سامان پڑا ہے، میں نے انہوں ہدایت کی کچھ پرانا سامان بچوں کو دے دیں، اس دن پہلی بار دونوں بچے رکشہ کروا کر گھر گئے تو ایک نے ‘نِکا ٹی وی’ اٹھا رکھا تھا اور دوسرے نے ‘وٹا اور ٹائپ رائٹر’ (مونیٹر، ماؤس اور کی بورڈ) دونوں بچوں کے خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں لگتے تھے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ کچھ ممکن ہو سکا تو پرانے کمپیوٹر کا بھی بندوبست کر دیں گے فی الحال اس پر ہی گزارہ کریں۔

چند روز کے بعد دوپہر کے وقت میرے آفس کے دروازے پر دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کا کہا تو سلمٰی تھی، خلافِ توقع کافی اچھے موڈ میں تھی۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے دروازے بند کیا اور ایک کان سے دوسرے کان تک باچھیں پھیلائے ہوئے اور پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے آگے آئی، میں نے اچانک محسوس کیا کہ اسکا دوپٹہ کندھوں کی بجائے بازو پر لٹک رہا تھا اور اس دن اس نے گریبان بھی غیر معمولی طور پر کھلا پہن رکھا تھا۔ ۔۔’سر تُسی لگدا ناراض ای ہو گئے او’ وہ کہہ رہی تھی اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میرے ٹیبل کی طرف رخ کئیے آگے بڑھ رہی تھی، مجھے اندازہ ہو گیا کہ سلمٰی آج اپنا آخری ہتھیار آزمانے پر اتر چکی ہے، میں نے اسکو جواب دینے کی بجائے فون اٹھایا اور فون پہ دوسری طرف کہا ‘آپ ذرا آئیں گی؟’

مِس منزہ کمرے میں داخل ہوئیں تو میں نے سلمٰی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘یہ کچھ کہہ رہی ہیں۔۔ذرا انکی بات سُن لیں’۔۔مِس منزہ نے سلمٰی کی طرف دیکھا تو انکے تاثرات یوں تھےجیسے وہ ساری صورتحال سمجھ گئی ہوں۔۔’ہوووووو ہائے..سلمٰی جائیں آپ یہاں سے’ مِس منزہ نے ٹھیٹھ لاہوری لہجے میں اور قدرے سختی سے بات کرتے ہوئے کہا۔۔۔سلمٰی جلدی سے ‘اچھا باجی’ کہتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔
وہ باہر نکلی تو مِس منزہ جیسے کافی دیر تک شاک کا شکار رہیں۔۔۔ وہ بار بار ‘ہوووووو ہائے’ کہتیں اور پھر کبھی
ماتھے پہ ہاتھ مار کر اور کبھی ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر ہنسنے لگتیں، مجھ سے پوچھنے لگیں کہ ‘سر یہ کیا تھا؟’ ۔۔میں نے کہا ‘مِس آپ نے خود نظارہ کر تو لیا ہے۔۔۔اب مجھے کیا پوچھتی ہیں؟’۔

اگلے روز میں اکاونٹس والے نجم صاحب کے ہمراہ کینٹین کی طرف چائے کیلئیے گیا تو دیکھا کہ سلمٰی بھاء شوکت کے سرونٹ کوارٹر سے باہر نکل رہی ہے۔ اسی شام چھٹی کے وقت باہر نکلنے لگا تو بھاء شوکت نے فوراً مجھے روک کر یاماہا موٹر سائیکل کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ‘چوہدری صاب  اک نکی جئی گل کرنی سی’..اس دن میں نے بھاء شوکت کی داستان ساڑھے سات منٹ میں ہی ختم کر دی، مجھے اب اس آدمی سے کوئی سروکار نہیں رکھنا تھا میرا لاشعور پہلے ہی فیصلہ کر چکا تھا، اسکی کہانی وہی تھی۔۔’چوہدری صاب۔۔ایناں مُنڈیاں نوں کڈ دیو۔۔تہانوں ہور بندے لیان کے دیندے آں’ میں نے پوچھا ‘وجہ؟’ تو بھاء شوکت آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ میں نے موٹر سائیکل کو کک لگائی اور اسکی بات کے درمیان میں ہی چھوڑ کر نکل آیا۔

اگلے روز آفس پہنچا تو میں نے نوٹ کیا کہ بھاء شوکت کھِچا کھِچا سا ہے، اس دن سلام بھی نہیں کیا تھا۔

دس ایک بجے کے قریب دونوں بچے آفس آئے، سلام کیا اور آصف نے بھرے ہوئے دل اور آنکھوں میں آنسو لئیے بات کرتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ کل سے کام پہ نہیں آئیں گے، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ تائی سلمٰی نے محلے میں بہت ہنگامہ کیا ہے، اس نے اپنے برتن اٹھا اٹھا کر ہمارے دروازے پر مارے ہیں، اس نے خوب تماشا لگایا، سارے محلے دار بھی بہت پریشان ہوئے اس لئیے ان کے ابو نے کہا ہے کہ تم کام چھوڑ دو۔ میں کچھ تذبذب کا شکار ہو گیا، ایک طرف بچے اور انکا مستقبل تھا اور دوسری طرف انکا گھرانہ اور خاندان، بظاہر مجھے فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں تھا میں نے دونوں بچوں سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ آصف نے کہا کہ ‘سر ہم یہاں سے چلے گئے تو جا کر گلی میں گلی ڈنڈا ہی کھیلنا ہے زیادہ سے زیادہ ہوا تو جب ہم ذرا بڑے ہو گئے تو ابو ہمیں کارپوریشن یا واسا میں بھرتی کروا دیں گے اور بس’ میرا ذہن بچوں کے مستقبل اور انکے خاندانی مسائل میں دخل اندازی جیسے مسائل میں الجھ کر فیصلہ سازی سے قاصر ہو چکا تھا  ۔۔میں نے بچوں کو آفس سے رخصت کیا اور فون پر پرنسپل صاحب اور سٹاف کے چند دیگر افراد سے رائے حاصل کی۔ پرنسپل صاحب نے تو کہہ دیا کہ عمران یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے آپ کو جو مناسب لگے آپ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جب میں نے سٹاف کو اپنی تجویز سے آگاہ کیا تو تقریباً تمام کے تمام سٹاف نے میری تجویز کی تائید کی، اس روز شام کو بچے گھر جانے لگے تو میں نے کہا کہ بیٹا اپنے ابو سے کہنا کہ کل مجھے آ کر ملیں۔

اگلے روز ایک دُبلا پتلا مگر لمبے قد کا منحنی سا بکھرے بالوں اور خشخشی داڑھی والا شخص آفس میں داخل ہوا۔ اسکے چلنے کا انداز ہی بتاتا تھا کہ اسکی صحت زیادہ اچھی نہیں۔ بہت ہی عاجز مزاج تھا۔ میں نے بیٹھنے کو کہا تو وہ زمین پر ہی بیٹھ گیا، میں نے اٹھ کر اس زمین سے اٹھایا اور کرسی پر بٹھایا تو وہ کافی دیر سہما رہا۔ وہ ایلبرٹ تھا آصف اور جاوید کا والد، میں نے چائے پلائی اور پوچھا کہ آپ دونوں بچوں کو یہاں آنے سے کیوں منع کرنا چاہ رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ ‘سر خاندان میں بہت لڑائی ہے، انکی تائی نے یہاں رکھوایا تھا اب وہ روز فساد کرتی ہے’ میں نے کہا کہ ‘بچے تو آپکے ہیں ناں۔ ۔یہاں آتے ہیں لکھنا پڑھنا سیکھ گئے ہیں، تھوڑا بہت کمپیوٹر چلانا بھی سیکھ گئے ہیں۔ یہاں آفس کے ماحول میں محفوظ بھی ہیں۔ ادب آداب بھی سیکھ گئے ہیں، اوپر سے آپکو کچھ نہ کچھ مالی مدد بھی ہو جاتی ہے، انکو اگر ہٹا لیں گے تو کیا آپکا خاندان آپکی مالی مدد کرے گا؟’ ۔ ۔ایلبرٹ پریشان ہو کر مجھے تکنے لگا۔

میں نے مزید کہا ‘ بچے آخر کار آپ ہی کے ہیں، آخری فیصلہ آپ نے ہی کرنا ہے، مگر یہ بچے ہمیں بہت عزیز ہیں، اگر یہ یہاں سے جائیں گے تو ہم سب کو بہت دُکھ ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر آپ ان کو یہاں آنے دیں گے تو میں انکی تنخواہ میں بھی اضافہ کرنے کو تیار ہوں’ میرا یہ کہنا تھا کہ ایلبرٹ مسیح نے ایک قطعی فیصلہ کن لہجے میں ہاتھ باندھ کر اور آنکھوں میں آنسو لئیے کہا ‘ سر۔۔تسی ایناں بچیاں نوں ایتھے رکھو۔۔میں آپے اپنے خاندان والیاں نوں ویکھ لاں گا’۔۔اس دن میں نے آصف کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا اور اس سے نصف تنخواہ جاوید کی مقرر کر دی۔ اگلے دن مجھے مِس آمنہ نے اطلاع دی کہ سلمٰی کام چھوڑ گئی ہے۔ میں نے بھاء شوکت سے کہا کہ ایک نئی کام والی کا بندوبست کرے مگر بھاء شوکت کا مزاج آسمان پہ تھا، کہنے لگا ‘تہانوں آکھیا وی سی۔۔تُہاں ساڈی گل منی کوئی ناں۔۔ہن تسی آپے لبھو’ ۔۔اس دن میں نے بھاء شوکت کی چھٹی کروا دی اور اس کے جونئیر رفیق کو سکیورٹی کا انچارج بنا دیا۔ دو دن بعد سلمٰی خود ہی کام پہ واپس آ گئی۔
کچھ وقت گزرا تو مجھے اسلام آباد میں ایک سرکاری ادارے میں جاب آفر ہو گئی، میں نے کالج سے استعفیٰ دے دیا اور اسلام آباد شفٹ ہو گیا چند برس وہاں اور پھر کینیڈا آ گیا۔

پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی اور کیلنڈر پر بہت سے برس بیت گئے، غالباً دو ہزار پندرہ میں میں کینیڈا سے پاکستان گیا ہوا تھا، مال روڑ پر ایک کتابوں کی دوکان کے سامنے رکشے کے انتظار میں کھڑا تھا کہ میرے سامنے ایک بائیکر نوجوان سی ڈی سیونٹی پر آ کر رُکا اور مخاطب ہو کر بولا۔۔’سر عمران چوہدری صاحب؟’ میں نے کہا ‘جی۔۔اور آپ؟’ میں اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا اس نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا لہٰذا میں پہچان نہ سکا۔

‘سر میں آپ کا چُنوں۔۔’ وہ بائیک سے اترا ہیلمٹ اتارا، اور اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا وہ گلے سے آ لگا۔۔۔وہ بچوں کی طرح زار و قطار رو رہا تھا۔۔’سر آپ کدھر چلے گئے تھے؟’ وہ باقاعدہ ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا۔ میں نے اسے گلے لگایا۔۔اتنے برسوں کے بعد اس اچانک جذباتی ملاقات سے سچ کہوں تو آنسو تو میری آنکھوں میں بھی آ گئے۔۔’اوئے چُنوں یار تُو اتنا بڑا ہو گیا ہے؟۔ ۔ہمارے مُنوں کا کیا حال ہے؟’ اس نے اب ہلکی سی داڑھی رکھی ہوئی تھی جو اس پہ بہت بھلی لگ رہی تھی۔

وہ اصرار کر رہا تھا کہ کھانا کھلائے بغیر نہ جانے دے گا، میں تیار نہ تھا آخر طویل بحث مباحثے کے بعد ہم اس بات پہ متفق ہوئے کہ ایک کڑک سی چائے پی جائے۔ وہیں سے ہم مسجدِ شہداء کے پاس ایک ٹی سٹال والے کے پاس بینچ پر بیٹھ گئے، ہم کڑک چائے کے ساتھ کشتی کیک اور پیٹیز کھاتے رہے جبکہ وہ بتا رہا تھا کہ دونوں بھائی بعد میں بھی کئی سال کالج میں کام کیلئیے جاتے رہے۔ پھر انہوں نے ایک محلے دار خاتون سے ٹیوشن پڑھنا شروع کی، آصف نے پرائیویٹ امتحان پاس کر کے میٹرک کر لیا تھا، جاوید ابھی آٹھویں کی تیاری کر رہا تھا۔کچھ پیسے جمع ہو گئے تو دونوں بھائیوں نے ایک پرانا کمپیوٹر بھی خرید لیا جس پر ہاتھ صاف ہوا تو آصف کو پہلے اردو بازار میں کمپوزر کی جاب ملی پھر وہ ایک مقامی اخبار میں بطور کمپیوٹر کمپوزر بھرتی ہو گیا۔ وہاں سے معقول معاوضہ مل جاتا تھا باقی وہ اردو بازار سے کمپوزنگ کا کام پکڑ لیتا تھا اور اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔ جیدی حفیظ سینٹر میں ایک کمپیوٹر ہارڈوئیر شاپ پر بطور ٹیکنیشن کام کر رہا تھا۔ وہ بھی کمپیوٹر کے پرزہ جات اسمبل کر کے پرائیویٹلی کمپیوٹر بنا کر بیچ لیتا تھا۔ انکے والد ایلبرٹ مسیح کا چند برس قبل انتقال ہو گیا تھا۔

میں اس سے ایک اور ہستی کے بارے پوچھنا چاہ رہا تھا مگر بوجوہ پوچھ نہ سکا، پھر اس نے خود ہی بتایا کہ انہوں نے کوٹ لکھپت سے کرائے کا گھر تبدیل کر کے دھرم پورہ میں لے لیا تھا اور بہت برسوں سے تائے اور تائی سے کوئی میل ملاقات نہیں تھی۔ چائے پی کر رخصت ہونے لگے تو مجھے ایک دم سے خیال آیا۔۔میں نے کہا ‘آصف، کیا اب بھی تم اور جاوید نِکا ٹی وی، وٹا اور ٹائپ رائیٹر کہتے ہو؟’ آصف بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔وہ ہنستے ہوئے اب بھی شرما جاتا تھا۔

(Title image is an AI-generated depiction.)

Leave a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Website Powered by WordPress.com.

Up ↑