اس کو اپنے  گال کے نیچے ایک سخت شے کا احساس ہوا جیسے لکڑی کا کوئی تختہ ہو، ذہن پر مگر ایک دھند سی چھائی ہوئی تھی، آنکھ کی ہلکی سی درز کھلی تو سورج کی روشنی آنکھ کی پتلی میں داخل ہوئی۔

سورج کی روشنی آنکھ میں داخل ہوئی تو  سر میں جیسے دھماکہ سا محسوس ہوا، ایک شدید سر درد کی لہر سی دوڑ گئی۔ وہ اپنی تمام  تر قوت جمع کر  کے بمشکل اٹھ بیٹھنے میں کامیاب ہو سکا۔  وہ کون ہے؟ کہاں ہے؟ اسے کچھ یاد نہیں آ   رہا تھا۔ اسے اس وقت اگر کسی شے کی ضرورت تھی تو شدید سر درد کے حل کیلئیے دو گولی ۔۔تلوار کے نشان والی۔۔یہ خیال رہ رہ کر اس کے شعور میں پیدا ہو رہا تھا۔

  اسکے بعد جو اگلا احساس پیدا ہوا وہ اسے اپنی ٹھوڑی پر چپچپاہٹ اور نمی سی محسوس ہوئی، ا سنے دائیاں ہاتھ اٹھا کر ٹھوڑی پر لگا کر دیکھا تو  نمی ہاتھ پر منتقل ہو گئی، اسنے ہاتھ چہرے کے سامنے لا کر دیکھنے کی کوشش کی تو احساس ہوا کہ انگلیوں کی پوریں سرخی مائل مادے  سے لتھڑی ہوئی ہیں، کیا یہ خون ہے؟ ذہن میں پھر سوال ابھرا، اگر ہے تو کیوں؟  اسکا ذہن ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ایسے میں ایک  دو راہگیر جمع ہو کر  اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر د یکھ رہے تھے، اسے محسوس ہوا کہ باقی راہگیر گردن گھما گھما کر پیچھے دیکھتے جاتے  ہیں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

شدید سر درد کے باعث اسنے اپنا سر جھکا کر ہاتھوں میں تھامنے کی کوشش کی تو اسے وجہ سمجھ آ گئی کہ راہگیر اسے اتنا بغور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کیوں دیکھ رہے تھے، اسکی  کریم کلر کی شرٹ گریبان سے لے کر ناف تک سرخ ہو چکی تھی کچھ چھینٹے اسکی بلیک کلر کی پتلون پر بھی تھے، کیا یہ اسکا  خون تھا؟  مگر کیوں؟اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اور پھر یہ شدید سردرد۔۔اُف خدایا۔۔!

’بھا جی مسافر او؟‘۔۔۔ایک منحنی سی داڑھی والے شخص نے آگے بڑھ کر  اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا، اسکے سر پر سبز رنگ کی پلاسٹک  کی ٹوپی تھی۔ ’ کیہہ ہویا تہانوں؟‘ اس شخص نے پھر پوچھا۔

اب وہاں باقاعدہ مجمع جمع ہونا شروع ہو چکا تھا، جیسے کوئی بندر کا تماشا ہو رہا ہو، ’دیکھنے میں تو پڑھا لکھا لگتا ہے‘ ۔۔مجمعے میں سے ایک اور آواز آئی۔

اب اس نے اپنے ارد گرد ماحول پر ذرا غور کیا تو اسے احساس ہوا کہ وہ ایک چوبی  تختے پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھا ہوا تھا اس  نے پیچھے گردن گھما کر دیکھا تو ایک عدد چولہا کچھ برتن اور چند بوسیدہ سی لکڑی کی کرسیاں ایک زنجیر سے بندھی ہوئی تھیں، شاید یہ ایک چائے والے کا سٹال تھا اور یہ سٹال ایک  مصروف جگہ کے ایک چوراہے کے ایک نکڑ پر تھا۔

’بھائی جی تہانوں کسے نے قتل کرن دی کوشش کیتی اے؟۔۔اے خون کس طراں نکلیا اے؟‘ مجمعے میں سے پھر کسی نے سوال داغا۔  لیکن وہ جواب دینے کی بجائے ہونقوں کی طرح بیٹھا سامنے دیکھتا  رہا، شاید اسکا  ذہن ابھی تک اس قابل نہیں ہو پایا تھا کہ مجمعے  کی  جانب  سے ہونے والے سوالوں کا جواب دے سکتا۔ ’بھائی جی ۔۔آپکا سامان وغیرہ کدھر ہے؟۔۔کوئی عزیز ۔۔کوئی جاننے والا؟‘۔۔۔سبز ٹوپی والے منحنی  داڑھی والے شخص نے پھر سوال کیا۔ مگر جواب ندارد۔ ’کوئی دُکھی پردیسی لگتا ہے۔۔‘سبز ٹوپی والاشخص اس دفعہ مجمعے کی طرف دیکھ کر گویا ہوا۔

’بھا جی ۔۔تہاڈا گھر بار کتھے وے؟‘ اب کی بار ایک لمبے قد والے اور بھاری بھرکم شخص  نے سوال کیا اس نے کندھے پر ڈفل بیگ لٹکایا ہوا تھا، شائد وہ بھی مسافر تھا مگر مجمعہ لگا ہوا دیکھ کر رُک گیا۔

’مینوں تےکراچی دا لگدا‘ مجمعے میں کسی نے آپس میں دوسرے ساتھی  سے بات کرتے ہوئے کہا۔۔’آہو لگدا تے کوئی پڑھیا لخیا   ای اے‘ اسکے ساتھی نے جواب دیا۔ اب مجمعے میں چہ میگوئیاں شروع ہو چکی تھیں۔

’ کوئی سرکاری بندہ لگدا۔۔حلیہ عام بندے والا نئیں‘۔۔مجمعے میں سے ایک اور رائے آ گئی۔ اب مجمعے میں کوئی تیس چالیس افراد جمع ہو چکے تھے۔  دور  کہیں فاصلے پر  ایک مداری کے تماشا کرنے کی کمنٹری بھی سنائی دے  رہی تھی مگر وہاں اتنا مجمعہ جمع نہیں ہو سکا تھا۔

’بھائی جی ۔۔اے پھڑو۔۔جے ایدے نال تہاڈا کوئی بھلا ہو سکدا  ہووے تے۔۔۔مسافر آدمی لگدا   ایں ساڈے واسطے دعا کر دئیں‘۔۔سبز ٹوپی اور منحنی داڑھی والے شخص نے اپنے نیلے رنگ کے کُرتے کے کھیصے میں ہاتھ ڈال کر بیس بیس روپے کے دو نوٹ نکال کر اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، مگر اس نے پیسے نہیں پکڑے وہ ویسے ہی سامنے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ مجمعے میں سے کسی اور نے بھی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نوٹ سبز ٹوپی والے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔’ اے لے یار۔۔اینوں کہویں ۔۔سانوں وی دعا وچ یاد رکھے‘۔ اتنے میں مجمعے میں کھڑے ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا۔۔’عامر چل یار۔۔گڈی  دا ٹائم ہو گیا‘۔

یہ  آوازسنتے  ہی جیسے اسکا  ذہن جاگ اُٹھا، عامر۔۔عامے۔۔اوئے عامے اوئے‘۔۔اسے یاد آیا کہ اسکے ابا جی ۔۔اسے عام طور پر  میرا عاما  پُتر  کہا کرتے ہیں  یا پھر جب آواز دینی ہو تو۔۔اوئے عامے اوئے‘   کہہ کر آواز دینا ابا جی کا پسندیدہ فقرہ تھا۔ پھر جیسے اسکے ذہن کی بند بتیاں ایک ایک کر کے روشن ہونا شروع ہوئیں، اسے یاد آیا کہ اسکا  تو  نام عامر رفیق بٹ تھا، مگر گجرانوالے میں سب یار دوست اسے عامر بٹ  اور بٹ جی ہی کہتے تھے۔ اپنے نام کے بعد جو چہرہ ذہن کے پردے پر  نمودار ہوا  وہ ثمرین کا چہرہ تھا۔۔ثمرین ۔۔اسکی بیوی۔

پھر جیسے ذہن کی پرتیں کھلنا شروع ہو  گئیں، اُسے یاد آیا کہ اسکی شادی ایک سال قبل اسکے محلے کے ڈاکٹر رزاق صاحب کی لڑکی ثمرین سے ہوئی تھی،  ایسا نہیں تھا کہ عامر کیلئیے کوئی رشتوں کی کمی تھی، سرخ سپید رنگت اور چھ فٹ سے نکلتے قد اور ورزشی  جسم کے مالک عامر بٹ کیلئیے اپنا محلہ چھوڑ دو چار آس پاس کے محلوں کی مٹیاریں بھی فریفتہ تھیں، اسکی ساری عمر  نظروں کے ایسے پیغامات پڑھتے   ہی گزری تھی، بچپن میں تھا تو رشتے دار خواتین  اپنی اپنی گڑیا، پنکی اور ببلی کا ذکر کرنا  نہ بھولتیں اور جب  رخصت ہونے لگتیں تو ایک زور دار معانقہ تو لازم  بات ہوتی، مگر وہ ہمیشہ سے طبیعت کا شرمیلا ہی رہا تھا۔ بچپن میں گھر سے ہی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ جوانی میں بھی گھر کی خواتین کے علاوہ باقیوں سے شرماتے ہی  عمر گزری، پھر اسکے ابا جی کی محلے میں بہت عزت بھی تو تھی، کیسے ابا جی کی عزت داغدار کرنا پسند کر سکتا  تھا، حاجی رفیق بٹ صاحب کی بازار میں پینٹ اور بلڈنگ میٹیریل کی دوکان تھی، پرانی دوکان تھی تو لگے  بندھے پرانے گاہک کہیں اور جاتے ہی نہ تھے،  پھر حاجی  رفیق بٹ  صاحب محلے کی مسجد کمیٹی کے سپرستِ اعلیٰ بھی تو تھے،  ثمرین کوبھی پینٹ والوں کا عامر بہت پسند تھا مگر کبھی بات چیت یا  رقعہ بازی کی نو بت نہ آ سکی، بس ایک دن چپکے سے ماں کے سامنے پینٹ والوں کے عامر کے اخلاق کی تعریف کر دی، ماں  تو پھر ماں تھی  مزید کہنے کی ٖضرورت ہی نہ تھی، اگلی شام ہی ڈاکٹر صاحب کلینک سے واپس آئے اور تہمبد باندھ کر صحن میں چارپائی پر کھانے کی طشتری سامنے رکھے کھانا  کھانے بیٹھے ،تو ماں پائیند کی طرف جا بیٹھی ۔

عامر کی ماں تو اس وقت فوت ہو گئی تھی جب  وہ ابھی پانچویں جماعت میں تھا اور محلے میں ہیضے کی وبا پھیلی تھی، لہٰذا ڈاکٹر صاحب کو خود ہی پہل  کرنی پڑی، حاجی رفیق بٹ  صاحب کیلیئے تو  پہلے ہی ڈاکٹر رزاق صاحب کا کنبہ بہت معزز تھا، لہٰذا انکار کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔  یوں  علاقے کی مٹیاریں دیکھتی رہ  گئیں اور  حاجی رفیق بٹ پینٹ سٹور والے کے اکلوتے صاحبزادے عامر بٹ کوثمرین لے اُڑی۔

ثمرین اپنے کنبے کے برعکس بہت مختلف الخیال ثابت ہوئی، پہلے چند ہفتے تو شادی کی خوشیوں میں اچھے گزر گئے مگر آہستہ آہستہ ثمرین نے الگ گھر اور وہ بھی محلے کی بجائے کسی نئی کالونی میں لے کر رہنے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا، عامر اسکے لئیے ذہنی طور پر تیار نہ تھا،  وہ باپ کو چھوڑ کر الگ ہونے کے تصور سے ہی گھبرا جاتاتھا،  لہٰذا  چند ہفتوں بعد ہی ایک پرسکون گھر انےمیں  پہلی بار گرما گرمی شروع ہو گئی۔  ثمرین کی عادات و اطوار عملی زندگی سے زیادہ فلموں ڈراموں اور سوشل میڈیا ایپس سے متاثرہ تھے، لہٰذا   وہ عملی زندگی کے معمولی سے مسائل کو بھی سوشل میڈیا اور فلموں کے تناظر میں دیکھتی، عامر بٹ نے حال ہی میں بی کام مکمل کر کے ایک الیکٹرک موٹریں بنانے کے کارخانے میں بطور اکاونٹینٹ جاب شروع کی تھی،  نہ نیا گھرخریدنے کی سکت تھی اور  نہ گھر کا  تلخ ماحول برداشت کرنے کی  ہمت، عامر شدید ذہنی تناو کا  شکار ہوتا چلا گیا۔ حاجی صاحب نے  مگردنیا دیکھ رکھی تھی، معاملات سمجھ گئے، انہوں نے کوئی ضد نہیں کی بلکہ اُلٹا عامر کو قائل کر لیا کہ وہ کسی اچھی کالونی میں  کرائے کا گھر لے لے،  اور یہ کہ وہ بہت جلد یہ پرانا گھر بیچ کر انکے   ساتھ آ کر رہنے لگیں گے، عامر نے آج تک باپ کے سامنے زبان درازی نہیں کی تھی سو، بہ دلِ نخواستہ عامر ایک پراپرٹی ڈیلر دوست کو کہہ کر ایک نئی کالونی میں کرائے کا گھر لے کر شفٹ ہو گیا۔ گھر بدلا تو  گھر کے کرائے کے باعث عامر کی  آمدن بھی منقسم ہو گئی اور ابا جی سے پیسے مانگنے کی اس میں ہمت نہ تھی، لا محالہ عامر کو مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اسکا خیال تھا کہ ابا جی پرانا گھر بیچ  دیں گے اور ہم پھر پہلے کی طرح اکٹھے رہنے لگیں گے تو مسئلےحل ہونا شروع ہو جائیں گے۔  لیکن اب  ایک نیا مسئلہ یہ بن گیا تھا کہ ثمرین کسی طور اپنی فرمائشیں اور خواہشات  کم کرنے پر تیار نہیں تھی،  وہ ملک کی معاشی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھی، اسے  ہربدلتے نئے ماڈل کا فون،  مہنگے سے مہنگا میک اپ کا سامان اور  ایک کے بعد ایک سہیلی کی شادیوں میں شرکت کیلئیے نئے سے نئے فیشن کا مہنگا ترین جوڑا درکار تھا۔ عامر نے  تنخواہ میں اضافے کیلیے کارخانے میں اکاونٹ مینیجر صاحب سے بات  کرنے کی کوشش بھی کی مگر نئی نئی جاب  میں اتنی جلدی اضافے کی بات کرتے ہوئے جیسے وہ خود بھی شرمندہ سا  ہو گیا۔

اُس دن بھی وہ جاب سے واپس آیا تھا کہ ثمرین بیگم نے اسے  آن لائن شاپنگ ایپ سے لیزر فیس ٹریٹمنٹ مشین آرڈر نہ کر کے دینے پر ہنگامہ کر دیا، شدید غصے میں عامر اپنا موٹر سائیکل لے کر  گھر سےنکلا اور کچھ نہ سمجھ میں آتے ہوئے موڑسائیکل کا  رُخ ریلوے سٹیشن کی طرف کر دیا۔ اسکے ذہن میں صرف ایک ہی بات بار بار گھوم رہی تھی کہ میں نے یہاں سے اب دُور چلے جانا ہےیہی سوچتے ہوئے وہ سامنے جو بھی ٹرین کھڑی نظر آئی جا کر اس میں بیٹھ گیا، اسکا   آفس کا بریف کیس بھی  اسکےہاتھ میں  ہی تھا، اگر کوئی اسے دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ کسی فارماسوئیٹیکل کمپنی کا سیلز کا نمائیندہ جا رہا ہے۔

اُس نے ٹکٹ بھی نہ خریدا تھا، اسکا خیال تھا کہ ٹی ٹی آئے گا تو کچھ جرمانہ ادا کر کے وہیں پہ بنوا لے گا۔ عامر بٹ بوگی میں جس سیٹ پہ بیٹھا تھا بوگی کے اسی حصے میں ایک فیملی بھی سوار ہوئی اور یہ  فیملی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے انہی سیٹوں پر آ کر بیٹھ گئے جہاں عامر بیٹھا ہوا تھا،  اس خاندان میں ایک  نحیف سے بزرگوار، انکی عمر رسیدہ  سی بیوی، ایک نوجوان  لڑکی جو کہ  شکل و صورت غالباً انکی بیٹی تھی اور ایک تئیس چوبیس سال کا لڑکا  جس کی ان سے شکل نہیں ملتی تھی۔ عامر نے ذہن ہی ذہن میں حساب لگا لیا کہ یہ لڑکا ان کا  داماد ہو گا۔ ٹرین چلی تو اندازہ ہوا کہ ٹرین میں زیادہ سواریاں نہیں سوار ہوئی تھیں  یا  پھر وہ دیگر بوگیوں میں سوار تھیں۔ ٹرین شہر سے نکلی تو ہلکی پھلکی باتیں اور تعارف وغیرہ شروع ہوا،  بزرگوار نے بتایا کہ وہ حیدرآباد سے پنڈی آئے تھے اور اب اپنے باقی رشتے داروں سے ملنے لاہور جا رہے تھے، عامر کو اب اندازہ  ہوا کہ وہ لاہور جانے والی ٹرین میں سوار ہوا تھا، شام ہو  چکی تھی اور ٹرین کے پہیٗوں کی متواتر ’ٹھک ٹھک ٹھکا ٹھک ‘ایک خاص ردھم پیدا کر رہی تھی۔ یہ فیملی عامر سے بہت اچھے  اخلاق سے پیش آ رہی تھی، ثمرین کی منفی شخصیت اور آئے روز جھگڑوں کے بعد کسی کا اس سے اچھے طریقے سے پیش آنا عامر بٹ کو بہت بھلا لگ رہا  تھا،  اسے شائد پہلی بار محسوس ہوا کہ اسکی قدر افزائی ہو رہی ہے۔ کچھ دیر بعد ٹرین میں دسترخوان کھول لیا گیا اور بہ اصرار بزرگوار اور انکی بیگم  بڑی بی نے عامر کو بھی کھانے میں شریک کر لیا۔ عامر نے ہچکچاتے ہوئے چند نوالے لئیے تو پہلے  سے چمکی ہوئی بھوک جیسے اور بھی بھڑک اُٹھی۔

کھانے کے بعد حسبِ روایت پان کا دور شروع ہوا، بڑی بی نے پاندان نکال کر ایک کے بعد ایک سب کو پان بنا کر دیئے، عامر کو یہ سب بہت دلچسپ لگ رہا تھا، اس سے پہلے اسنے چند ایک بار دوستوں کے ہمراہ ہی پان کھایا تھا، ہچکچاتے ہوئے اس نے ایک بار پھر بڑی بی کے اصرار پر پان لے ہی لیا۔  اُ س کے بعد آخری بات جو عامر بٹ کو یاد تھی وہ پان چپانا ہی تھی۔

لکڑی کے میز نما تختے پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھے عامر بٹ کا ذہن ماضی سے واپس نکلا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسکی کریم کلر کی شادی میں تحفہ ملی شرٹ اب ناف  تک پان کی پیک سے بھری ہوئی تھی، اس نے گردن گھما کر ادھر اُدھر کا جائیزہ لیا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ لاہور ریلوے سٹیشن کے پاس بوڑھ والے چوک سے گڑھی شاہو اور دھرم پورے کی طرف جانے والی روڈ کے شروع میں ایک ٹی سٹال کے پھٹے پر بیٹھا ہوا تھا۔ اسی اثنا میں قریبی مسجد کے سپیکر  سے اعلان  بلند ہوا۔۔

’حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔۔ایک مسافر جو کہ  کسی اچھے گھر کا  فردمعلوم ہوتا ہے اسے کسی نے نشہ آور شے کھلا کر لُوٹ لیا ہے، اور اس وقت بوڑھ والے چوک کے پاس نوابزادہ نصراللہ  صاحب کے دفتر کے سامنے موجود ہے، مسافر کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ کہ گھر کا اتا پتہ بتا سکے اگر کوئی صاحب اسے پہچانتے ہیں تو اسے گھر تک پہنچانے میں مدد فرمایئے۔ اللہ  آ پکو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین‘

عامر بٹ کو اعلان کرنے والے کے لہجے سے اندازہ  ہوا کہ ہو نہ ہو یہ وہی سبز ٹوپی اور منحنی داڑھی والاشخص ہو۔ عامر بٹ نے ذرا  غور کیا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسکی شادی کی انگوٹھی، گلے کی سونے کی چین جو وہ ہمیشہ پہنتا تھا اور جو  اسکی سرخ سپید رنگت اور سنہری مائل گھنے بالوں کے ساتھ بہت بھلی لگتی تھی وہ غائب تھی، اسکے علاوہ اسکا بٹوہ اور بریف  کیس جس  میں آفس کی کچھ پیمنٹ تھی جو اس نے اگلے دن بینک جا کر جمع کروانی تھی  ، سب غائب ہو چکی تھی۔  عامر کو   غالباً کوئی رات  میں بیہوشی کی حالت میں اس میز نما  چوبی تختے پر لٹا کر نکل  گیا تھا اور وہ کتنے گھنٹوں اس تختے پر لیٹا رہا اسے بالکل اندازہ نہ ہو سکا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے ارد گرد مجمع اب پہلے سے کچھ ہلکا ہو چکا تھا مگر لوگ اب بھی رُک  کر اسے دیکھتے تھے۔ اتنی  دیر میں وہی پلاسٹک کی سبز  ٹوپی اور ٹھوڑی پر داڑھی والا شخص پھر نمودار ہوا ،   اسنے آتے ہی کہا   ’اللہ بھلا کرے جی ان سلائی مشین کی دوکانوں والوں کا۔۔اللہ نے ان کو بڑا دینا ہے جی۔۔۔دُکھی انسانیت کیلئیے بڑا دردِ دل ہے انکے دل میں‘ اس نے گڑھی شاہو روڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’ دیکھیں جی ۔۔میرا خیال ہے کہ یہ پولیس کیس ہے۔۔ہمیں پولیس کو کال کر دینی چاہیئے‘ مجمعے میں سے ایک نوجوان کی آواز آئی، اس سے پہلے کہ اسکی  ہاں میں کوئی ہاں ملاتا، مجمعے میں سے کسی کی آواز آئی  ’ آہو  فیر اوہناں توں اگلے تین مہینے لِتر وی توں ہی کھاندا  رہیں‘ اور مجمعے سے ایک قہقہ بلند ہوا، وہ  نوجوان کھسیانہ سا ہو کر خاموش ہو گیا۔ اتنے میں ایک اور جوشیلا نوجوان گویا ہوا۔۔’ نہیں کیوں پولیس مارے گی۔۔اگر ہم پانچ سات لوگ اکٹھے ہو کر جائیں اور پولیس کو بتائیں کہ یہ صورتحال ہے تو کسی کی مجال نہیں ہے‘ مجمعے سے ایک دو حامی بھرنے کی آوازیں بلند ہوئیں تو پلاسٹک کی سبز  ٹوپی  اور نیلا کُرتا اور سفید شلوار والےشخص نے اب کی دفعہ اردو  مگر ٹھیٹھ  بازاری لہجے میں  کہا  ’ تو ٹھیک ہے جی۔۔فیصلہ ہو گیا۔۔تُسی دونویں میرا ساتھ چلو ۔۔تے ہم فیر پُلس کے حوالے کر آتے ہیں۔۔اسطراں کسے نوں  اعتراض وی نئیں ہوئیگا‘۔۔اس نے پولیس کا ذکر کرنے والے دونوں    نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہو کہا۔ ’ٹھیک ہو گیا۔۔۔ٹھیک ہو گیا‘ مجمعہ ایک دم اس پلان پر متفق ہو گیا تو بہ دلِ نخواستہ دونوں نوجوان اور  پلاسٹک کی سبز ٹوپی والا شخص عامر بٹ کو دونوں بازووٗں اور کمر میں ہاتھ دے کر پولیس چوکی کی طرف چل پڑے، ایسے میں آہستہ آہستہ مجمعہ بھی تتر بتر ہونا شروع ہو چکا تھا، کچھ آگے گئے تو پلاسٹک کی سبز ٹوپی والی شخص نے ایک نوجوان کومخاطب کر کے کہا ’ تسی  ذرا پڑھے لخے او۔۔رپٹ وچ فیر تہاڈا نام پوا دیندے آں‘۔۔وہ نوجوان  خاموش رہا مگر کچھ لمحوں بعد بولا ’ یار ۔۔میں تو گھر سے ابا جی کی دوائی لانے آیا تھا۔۔یہ تھانے کچہری کے چکروں میں مجھے نہ ڈالوـ۔۔یہ کہہ کر وہ  نوجوان عامر بٹ کا بازو چھوڑ کر رفو چکر ہو گیا۔  اس سے پہلے کہ پلاسٹک کہیسبز ٹوپی والا آدمی کچھ کہتا۔۔دوسرا  نوجوان  بھی ہمت کر کے بولا۔۔۔’بھا جی یہ کیا بات ہوئی؟۔۔کام صرف اس گورنر صاحب کو ہی  تھے؟ ۔۔ہم بھی گھر سے کام ہی کرنے نکلے تھے‘ یہ کہہ کر اسنے بھی بازو چھوڑا۔۔اور یہ جا اور وہ جا۔پولیس رپٹ میں نام لکھوانے کے ذکر سے ہی دونوں انقلابیوں کی ہوا نکل گئی تھی۔

جب دونوں نوجوان نظروں سے اوجھل ہو گئے تو پلاسٹک کی ٹوپی والا ٓدمی عامر بٹ کو لے کر آہستہ آہستہ  چلتا ہوا  ریلوے سٹیشن کے اس حصے کی طرف آ گیا جہاں نسبتاً رش ذرا کم ہوتا ہے۔ یہاں ایک درخت کے پیچھے جا کر عامر بٹ سے ہاتھ ملانے والے انداز میں بولا ’ صوفی اصغر۔۔صوفی اصغر نام  جے تہاڈے پائی دا‘   پھر صوفی اصغر آنکھ کا ایک کونہ دبا کر  اور کچھ رقم عام رکی طرف بڑھا کر بولا۔۔’دیہاڑی لوا دتی اے میں تیری۔۔اے لے پھڑ۔۔ففٹی ففٹی‘۔۔۔عامربٹ  پھر خاموش رہا  جیسے صورتحال سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہو۔

’اچھا  اچھا۔۔یار۔۔اے لووٗ فورٹی سکسٹی۔۔۔۔ہن اس توں  زیادہ میں نیئں جے دینے‘۔۔صوفی اصغر پھر گویاہوا۔ اور پیسے عامر کی جیب میں ٹھونس دیئے۔

صوفی اصغر پھر بولا۔۔’ باوٗ جی۔۔جے تسی ہمت کرو تے اللہ دی مخلوق دے دل وچ بڑا ای درد جے۔۔لہور توں لے کے خانیوال، ملتان، حیدرآباد کراچی تیکر مخلوق ای مخلوق۔۔۔تہاڈی دیہاڑی لوا دیا کراں گا۔۔اتوار دی اتوار۔۔بڑیاں رقماں۔۔‘

عامر بٹ اکاونٹینٹ تھا۔۔نوٹوں کی گُڈی دیکھ کر اسے رقم کی مالیت کا اندازہ ہو گیا تھا،  اس وقت عامر بٹ  ذہن میں رقم کو چار اتواروں سے ضرب دے کر ثمرین کے اخراجات  سے ہونے والے کمی  پوری ہونے  کا تجزیہ کرنے میں مصروف تھا۔ صوفی اصغر نے عامر بٹ کو خاموش دیکھا تو مایوس ہو کر چل پڑا۔۔ چند قدم ہی گیا تھا کہ پیچھے سے عامر بٹ کی  آواز آئی۔۔’ اگلی اتوار  فیرکنے وجے؟‘

صوفی اصغر کے قدم رُک گئے، وہ پلٹ کر مُسکرا کر بولا۔۔’دس وجے۔۔لائلپور‘

عامر بٹ نے مسکرا کر سر ہلایا اور گوجرانوالے کاٹکٹ لینے  کیلیئے  ریلوے سٹیشن کےٹکٹ گھر کی طرف چل پڑا۔

آتے جاتے مسافر مُڑ مُڑ کر اسے  بڑی ہمدردی  سے دیکھ رہے تھے۔

(تصویر اے آئی سے جنریٹڈ امیج ہے اور صرف علامتی ہے)