دریائے ستلج اور انڈیا پاکستان بارڈر کے قریب واقعہ ہیڈ سلیمانکی سے پاکستان کی سرحدی چوکی ‘صادقی چیک پوسٹ’ محض دو اڑھائی کلومیٹر دور واقعہ ہے۔ لکیر کے دوسری طرف ہمارے ‘ازلی ہمسائے’ اور ‘فطری دشمن’ کی چیک پوسٹ کا نام مہاویر چیک پوسٹ ہے، یہی وہ علاقہ ہے جہاں ہمارے ہیرو نشانِ حیدر میجر شبیر شریف شہید ہوئے(صادقی چیک پوسٹ اور میجر شبیر شریف شہید کے حوالے سے ہمارے محبی میجر محمد عمران سعید کی خوبصورت اور نہایت دلچسپ تحاریر موجود ہیں، ضرور پڑھیں) نقشے پر صادقی/مہاویر چیک پوسٹ سے مشرق کی طرف نظر دوڑائیں تو پندرہ کلومیٹرز کے فاصلے پر انڈیا میں قصبہ ‘فاضل کا’ نظر آتا ہے۔ اسی قصبے کی نسبت سے اس انٹرنیشنل بارڈر کو فاضلکا بارڈر بھی کہا جاتا ہے اور چالیس کلومیٹرز دور مغرب میں پاکستان کے پاکپتن شہر میں ایک سکول کا نام بھی اسی فاضلکا بارڈر کے نام پر ‘گورنمنٹ فاضلکا اسلامیہ ماڈل ہائی سکول’ رکھا گیا۔
آج کا موضوعِ گفتگو یہی گورنمنٹ فاضلکا اسلامیہ ماڈل ہائی سکول ہے۔ صاحبو، سال ہو گا یہی کوئی انیس سو اکیاسی یا شاید انیس سو بیاسی اور ہم اسی گورنمٹ فاضلکا اسلامیہ ماڈل ہائی سکول کے طالبِ علم ہوا کرتے تھے، ان دنوں جونئیر کنڈرگارٹن یا سینئیر کنڈرگارٹن جیسی بدعات کا رواج نہیں پڑا تھا تو ہم حسبِ زمانہ کچی کلاس سے پروموٹ ہو کر پکی کلاس میں ماسٹر جلال دین صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا کرتے۔ اگر آپ جین ایکس یا وائی نہیں ہیں تو آپ پکی کلاس کو آجکل کی سینئیر کنڈرگارٹن سمجھ لیں، عمرِ عزیز ہوگی یہی کوئی پانچ یا چھ سال۔۔اور ہم کہ دائمی طور پر خوشخطی کی نعمت سے محروم ہونے کے باوجود (جو کہ آج بھی اسی طرح قائم و دائم ہے) نہ جانے کن خوبیوں کی بناء پر ہم ماسٹر جلال دین صاحب کے ‘اقبال کے شاہین بچوں کی فہرست’ میں چوتھے نمبر پر شامل ہو چکے تھے۔ صاحبو، جنرل ضیاءالحق کا زمانہ ہونے کے باوجود چونکہ اس وقت تک ملک ضیائی ورژن آف اسلام سے مستفید نہیں ہوا تھا لہٰذا طلباء کو نصابی کے ساتھ ساتھ مثبت غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا بھرپور موقعہ ملتا۔ اسی سکول میں ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار میوزک کے نام پر محض پائپ بینڈ کے بجائے فُل ڈرم کِٹ، ہارمونیم، طبلہ اور ستار دیکھے، اب نہ جانے وہ روایت جاری رہ پائی یا نہیں مگر اس دور کے ہم گواہ ہیں کہ گورنمنٹ فاضلکا اسلامیہ ماڈل ہائی سکول پاکتپن میں غالباً ساتویں جماعت کے بعد باقاعدہ موسیقی اور آلاتِ موسیقی بجانے کی تربیت دستیاب تھی۔ اس بات کے ہم یوں گواہ ہیں کہ میوزک ٹیچر جن کو ان دنوں بینڈ ماسٹر صاحب کہا جاتا تھا کا صاحبزادہ نادر علی نہ صرف ہمارا ہم جماعت تھا بلکہ ڈیسک فیلو بھی تھا، لہٰذا بارہ بجے تفریح کے وقفے میں وہ اپنے ابو سے ملنے جاتا تو ہم بھی ہمراہ ہوتے اور یوں میوزک روم میں پہلی بار ہارمونیم، طبلہ، ڈرم کِٹ اور ستار وغیرہ سے ‘بقلم خود’ تعارف ہوا۔ اس سے پہلے ہم نے اپنی مختصر زندگی میں گھر یہ سب چودہ انچ سکرین کے بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی پر آتے پی ٹی وی کے پروگرامز میں ہی دیکھ رکھے تھے۔
صاحبو، ہوا یہ کہ ایک دن ہمارے پکی کلاس کے کمرہ جماعت میں چوتھی جماعت کے انچارج ماسٹر محمد حسین بھٹی صاحب اور پی ٹی آئی ریاض حسین صاحب ہاتھ میں قلم اور رجسٹر پکڑے تشریف لائے، ماسٹر بھٹی صاحب اپنے سخت مزاج اور ڈنڈے کے بےتکلف استعمال کیلئیے خاصے مشہور تھے، بھٹی صاحب نے کلاس میں آ کر ہمارے کلاس انچارج ماسٹر جلال دین صاحب جو کہ انتہائی نرم خو، اور دل جو قسم کے انسان تھے، ان سے ابتدائی سلام دعا کے بعد طلبہ سے کہا کہ سکول میں عید میلاد النبی کے سلسلے میں جو جلسہ ہونے جا رہا ہے اس میں کوئی طالبِ علم حصہ لینا چاہتا ہے؟ یہاں پر اب آپ خود دیکھیں، بات انصاف کی ہونی چاہئیے۔ ۔پہلی بات تو یہ کہ اس وقت ہم ٹھہرے پکی جماعت کے طالب علم تو ہمارے تو اس وقت والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ عید میلاد النبی کیا ہوتا ہے؟ دوسری بات، یہ جلسہ کس بلا کا نام ہے؟ جواب ندارد، تیسری بات، محمد حسین بھٹی صاحب کے سامنے ہاتھ تو درکنار آواز بلند کرنے کی جرات کون کرتا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ تیس پینتیس بچوں کی کلاس ایک دوسرے کی شکلیں تکتے ہوئے اشارے کرنے لگی۔۔کہ چل تُو کھڑا ہو جا اوئے۔
صاحبو، ہم کہ ٹھہرے پیدائشی رضاکار۔۔تو ہماری قومی حمیت سے یہ صورتحال برداشت نہ ہو سکی، یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ پینتیس بچوں کے ٹبر کے ٹبر سے ایک بھی بچہ اس چیز میں حصہ نہ لیتا جس کا ذکر بھٹی نے کیا تھا اور یہ جو کچھ بھی ہونے جا رہا تھا؟ لہٰذا، ہم سے تو برداشت نہ ہوا اور ہم سے لاشعوری طور پر ہاتھ بلند ہو گیا، اب صورتحال یہ تھی کہ بہ حسابِ عمر ہم قد میں اتنے مختصر تھے کہ بھٹی صاحب کو بمشکل ہمارا ہاتھ نظر آ سکا اور ہم خود نظر نہ آئے، حکم ہوا، یہ کون ہے جس نے ہاتھ کھڑا کیا ہے؟ اور عین اس وقت ہمارے وفادار ساتھیوں نے وفا کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے نہ صرف ہمارا نام بتا دیا بلکہ دو چار نے تو ہمیں کندھوں اور کمر سے پکڑ کر کھڑا بھی کر دیا۔ بھٹی صاحب نے اپنی ناک پہ رکھی عینک کے اوپر سے لال لال آنکھوں سے ہمیں گھورتے ہوئے استفسار کیا ‘اچھا تو تم حصہ لینا چاہتے ہو؟ کیا کرو گے؟’
عرض کیا، جو آپ کہیں استاد جی۔۔۔سچ پوچھیں تو ہم سے اس سے زیادہ بہتر جواب ممکن نہ تھا۔ آپ نے کچھ سوچتے ہوئے فرمایا۔۔’نعت؟۔۔۔ہممم۔۔۔ نہیں نعت مشکل ہو جائے گی۔۔۔تقریر کر لو گے؟’ ۔۔۔عرض کیا ۔۔جی استاد جی کر لوں گا۔ اب یہ تقریر کیا ہوتی ہے؟..ایک بار پھر۔۔۔ہمارے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا۔ فرمایا ۔۔۔۔’اچھا۔۔تفریح کے وقفے میں مجھے آ کر ملو۔۔تمھیں کچھ لکھ دیتا ہوں، کاپی پینسل لے کر آنا’, عرض کیا۔۔جی استاد جی۔
تفریح کے وقفے میں اپنے دوست مجاہد کو ساتھ لیا اور ڈرتے ڈرتے بھٹی صاحب کے پاس جا پہنچے، بھٹی صاحب نے ہماری رف کاپی پکڑی اور اس پر تقریباً ایک صفحے بھر کی تحریر لکھ دی جسکا آغاز اور اختتام ایک ایک شعر سے ہوتا تھا، حکم ہوا۔۔۔’اسے اچھی طرح یاد کر لینا’۔
چھٹی کے بعد گھر پہنچے تو حسبِ معمول والدہ محترمہ نے ہوم ورک چیک کرنا شروع کیا تو رف کاپی پر ایک تحریر بھی نظر آئی، پوچھا۔۔کہ یہ کیا ہے؟ عرض کیا۔۔۔’پتہ نہیں ۔ ۔بھٹی صاحب نے کہا تھا اسے یاد کر لینا’..والدہ نے کچھ غور کیا تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ تو غالباً تقریری مقابلے کیلئیے ایک عدد تقریر ہے۔ پہلے تو انہیں حیرت ہوئی کہ اس قدر چھوٹی عمر کے بچے کیلئیے تقریر کیا مناسب ہے؟ اب انہیں کیا معلوم کہ یہ اڑتا تیر ہم نے خود اُچکا تھا۔
بہرحال، والدہ محترمہ نے جیسے تیسے کر کے ہمیں تمام تقریری مضمون ذہن نشین کروا دیا، لیکن اس مضمون کو پڑھنا کیسے ہے؟ اسکی ادائیگی کیسے ہونا ہے؟ ہم اس صورتحال سے مکمل طور پر نابلد تھے۔
دو تین روز گزرے، صبح صبح ابو سکول چھوڑنے آئے تو ہم نے دیکھا کہ سکول خوب سجا ہوا ہے، رنگی برنگی جھنڈیاں، پرچم اور زمین پر رنگین برادے اور چونے سے خوبصورت پھول بنے ہوئے ہیں، ہمیں سجا ہوا سکول بہت اچھا لگتا تھا۔ صبح کی دعا کیلئیے تمام سکول میدان میں جمع تھا، ہم بھی خاموشی سے اپنی پکی کلاس کی قطار میں زمین پر جا کر بیٹھ گئے۔ لب پہ آتی اور قومی ترانہ وغیرہ کے بعد تلاوت ہوئی اور چند لڑکوں کے نعتیہ کلام پیش کرنے کے بعد ہائی حصہ کے لڑکے اپنے نام پکارے جانے پر یکے بعد دیگرے آتے زور و شور اور جوش و جذبے سے بہ آوازِ بلند گفتگو کرتے، کبھی ہاتھ اور بازو دائیں جانب لہراتے کبھی بائیں جانب۔۔اور کبھی گفتگو کرتے ہوئے میز پر زور سے مکا دے مارتے، ہمیں یہ سب بڑا عجیب لگ رہا تھا کہ بات نارمل انداز میں بھی تو ہو سکتی تھی۔
صاحبو، یونہی چلتے چلتے مائک پر کسی نے ہمارا نام پکار دیا، اب ہمیں کچھ سمجھ تو نہ آئی کہ کیوں نام پکارا گیا ہے مگر پھر وہی پیدائشی رضاکارانہ عادت کام آئی اور ہم کھڑے ہو گئے اور ماسٹر جلال دین صاحب کی طرف دیکھنے لگے کہ ہمارا نام کیوں پکارا گیا ہے؟ اتنے میں ماسٹر محمد حسین بھٹی صاحب جو ماسٹر جلال دین صاحب کے ساتھ ہی کھڑے ہوئے تھے۔۔جلدی سے بولے۔۔’چلو عمران تقریر کیلئیے تمھاری باری ہے!’ ۔۔۔عرض کیا۔ ۔’استادجی۔۔۔کونسی تقریر؟’ ۔۔۔حکم ہوا۔۔’او کھوتے۔۔وہی جو پرسوں تمھیں لکھ کر دی تھی’..او اچھا وہ۔۔۔تو یعنی کہ اب ہمیں وہ مضمون یہاں پہ سنانا تھا۔۔۔
اچانک محسوس ہوا کہ دونوں ٹانگوں کا وزن دو دو من کا ہو گیا ہے۔۔۔یوں محسوس ہوا کہ سینے سے اوپر کا حصہ بادلوں میں ہے اور ٹانگیں زمین میں گڑی ہوئی ہیں کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آ رہی ہے۔ نہ جانے کیسے پاؤں گھسیٹتے ہوئے کب ہم ڈائس پر جا پہنچے تو احساس ہوا کہ پیٹ میں تتلیاں سی اڑنے لگی ہیں، کانپیں ٹانگ رہی ہیں مگر ذہن میں ایک پلان تیار ہو رہا ہے کہ اب کرنا کیا ہے؟ لاشعوری طور پر ذہن میں آئیڈیا آیا کہ ہم سے پہلے جو لڑکے تقریر کر کے گئے ہیں بس انکے انداز میں وقتاً فوقتاً ہاتھ دائیں بائیں لہرانے ہیں اور ایک آدھ بار ڈائس پر مکا مارنا ہے۔ لیکن تقریر کا آغاز کیسے کیا جائے؟ نا جانے کب ہم نے تلاوت کے انداز میں ہاتھ باندھے اور باقاعدہ قرات کے ساتھ اعوذ باللہ اور پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کے دے دھن دھنا دھن ۔۔۔باریک سی آواز میں شعر پڑھ اور صدر محفل اور میرے پیارے اساتذہ کرام اور عزیز ساتھیو کہنے کی بجائے زبان سے پھسل گیا کہ میرے عزیز اساتذہ کرام اور میرے پیارے بچو۔۔۔اس پہ میدان میں فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا اور وہ بھی تمام سکول کے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے۔۔۔ہم نے مگر ہمت نہیں ہاری۔۔درستگی کی۔۔۔اور پھر پوری تقریر سنا دی، درمیان میں دو بار ڈائس پر ہاتھ بھی دے مارا، ذہن بیدار اس وقت ہوا جب تقریر مکمل ہو چکی تھی اور طلبہ تالیاں بجا رہے تھے، ہمارا نمبر چونکہ سب سے آخر میں آیا تھا، تو قوم سے ہمارے خطاب کے بعد ججز نے اب صرف سکور مرتب کرنا تھا۔ کچھ دیر کے بعد ججز نے نتائج سنانے شروع کئیے اور ساتھ ساتھ میں انعامات کی تقسیم بھی شروع ہو گئی، چونکہ ہمارے اپنے خیال میں ہماری پرفارمینس کافی سے زیادہ گھٹیا رہی تھی لہٰذا نام پکارے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ خیال تھا کہ جج صاحب نے ڈائس پر آ کر اچھی خاصی بے عزتی خراب کرنی ہے، لہذا اپنے دوست مجاہد کو کہنی لگائی کہ چل پانی پی کر آتے ہیں، ہم پانے پینے کے راستے میں ہی جا رہے تھے کہ جج صاحب کی آواز کانوں میں سنائی دی۔۔’اب جو بچہ رہ گیا ہے ۔۔اسکا نام ہے عمران’…یہ جملہ سننے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم رہ گئے ہیں، رہ رہ کر اس لمحے کو کوسنے لگے جب ہاتھ بلند کر کے یہ بلا اپنے سر لی۔۔اب اس سے آگے سننے کی ہم میں ہمت نہ تھی، ہم نے اپنی بے عزتی مجاہد کے کانوں میں جانے سے بچانے کیلئیے زور زور سے گفتگو شروع کر دی، کچھ دیر بعد پانی کے نلکے کے آس پاس گزار کر جب مجاہد اور میں واپس پہنچے تو تقریب ختم ہو چکی تھی، آتے جاتے ہمارے ہم عمر لڑکے ہمیں حیرت اور رشک وغیرہ سے دیکھ رہے تھے ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی، کلاس میں پہنچے تو ماسٹر جلال دین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ عرض کیا۔۔استاد جی پانی پینے گئے تھے۔۔۔ماسٹر جی نے بتایا کہ تم تقریری مقابلے میں سکول بھر میں تیسرے نمبر پر آئے ہو، سرٹیفکیٹ اور چھوٹی سی ٹرافی کے علاوہ۔۔جج صاحب نے خصوصی طور پر والدین سے درخواست کی تھی اس بچے پہ خاص توجہ دی جائے اس بچے میں بہت آگے جانے کی صلاحیت ہے۔
صاحبو، یوں سمجھیں کہ یہ تحریر ہم نے اس وقت اُس والے کافی آگے جا کر ہی لکھی ہے۔
Leave a Reply