اسی داستان کو معروف یونانی شاعر اور داستان گو ہومر نے 700-730قبل مسیح کے درمیان اپنی دو طویل نظموں میں بیان کیا ہے، درج بالا ٹروئے کے فتح ہونے تک کا قصہ ‘الیاڈ’ نامی نظم اور قلعہ فتح ہونے کے بعد یونانی فوج اور اسکے سالار اوڈیسئیس کی واپسی اور دس سال سمندر میں بھٹکتے رہنے کا قصہ ‘اوڈیسی’ نامی نظم میں بیان کیا گیا ہے۔
الیاڈ اور اوڈیسی سے متعلقہ کسی بھی تمثیل کے تجزئیے سے قبل چند حقائق ذہن نشین ہونے لازم ہیں۔۔
ہومر نے اپنی نظمیں اصل واقعہ سے کم از کم ساڑھے چار سو سال بعد تحریر کیں، اس دوران کم از کم پندرہ سے اٹھارہ نسلیں گزار کر یہ داستان ہومر تک پہنچی جس سے داستان میں مبالغہ آرائی ہونا بعید از قیاس نہیں رہتا۔
جس زمانے میں ہومر نے یہ نظمیں کہیں اس دور میں یونانیوں میں مافوق الفطرت دیوتاؤں اور ان کے غیر مرئی طاقتوں پر غیر متزلزل یقین تھا، جیسے زیوس(آسمان، بجلی اور قانون کا دیوتا)، پوسیڈون(سمندر، زلزلوں کا دیوتا)، ایتھینا(جنگی حکمت کی دیوی)، اپالو (موسیقی، شاعری اور سورج کا دیوتا)، ایرس(جنگ کا دیوتا)، آرٹیمس (شکار، چاند اور جنگل کا دیوتا) وغیرہ
اس زمانے میں داستان گوئی یونانیوں میں بےحد مقبول تھی، امراء تھئیٹر اور ڈرامے سے محظوظ ہوتے اور نچلے طبقات شہر کے چوکوں اور تھڑوں پر شعروں اور داستان گوئی سے محظوظ ہوتے، داستان گو حضرات زیبِ داستاں کیلئیے کہانی میں غیر ضروری مصالحہ ڈالنے سے بھی گریز نہ کرتے۔ یہ اس دور کا عام رویہ تھا۔۔بلکہ میڈیا کا آج بھی یہی رویہ ہے۔
ہومر کی انہی دو نظموں کے بارے میں ستائیس سو سال کے عرصے میں بارہا لکھا اور پڑھا گیا اور بیسیوں صدی میں بے شمار بار فلمایا گیا، کرسٹوفرنولن کی اوڈیسی اس سلسلے کی نئی کڑی ہے۔
اس فلم کو جب ہم نے پردہ سکرین پر دیکھا تو سب سے پہلی بات جس نے متاثر کیا وہ اس فلم کی سینماٹوگرافی ہے جسے معروف سینماٹوگرافر اور کرس نولن کے دوست
Hoyte van Hoytema
نے فلمایا ہے، چونکہ فلم کا فارمیٹ آئی میکس ہے تو ساٹھ فٹ ضرب اسی فٹ کی سکرین پر سینما میں آگے کی نشستوں پر بیٹھ کر اس فلم کو دیکھنے کا ایک الگ لطف ہے اور فلم درحقیقت آپکو لارجر دین لائف لگتی ہے۔ فلم کے کرداروں میں سے اگر کسی نے کچھ متاثر کیا ہے تو وہ این ہیتھ وے کی ایکٹنگ ہے، ان کے علاوہ فلم کے ہیرو میٹ ڈیمن سمیت تقریباً سب کرداروں کی ایکٹنگ محض واجبی سی ہے۔
فلم پر تبصرے کے حوالے سے اسکو تین حصوں (مثبت پہلو، منفی پہلو اور نتیجہ) میں تقسیم کر لیتے ہیں:
مثبت پہلو
فلم کو آئی میکس فارمیٹ میں فلمانا ایک عمدہ فیصلہ تھا جو کہ کرسٹوفر نولن کے فینز بلکہ عام فلم بینوں کے ذہنوں پر دیرپا اثر چھوڑنے کا باعث بنےگا۔
چونکہ آئی میکس فارمیٹ کیمرے کا سائیز بڑا اور اسکا کافی شور ہوتا ہے، کرِسٹوفر نولن نے خصوصی کنٹینر باکس تیار کروا کر کیمرہ اس میں فٹ کروایا اور خصوصی آئینوں کے استعمال سے بیشتر سین فلم بند کئیے۔ یہ کام اس سے پہلے نہیں ہوا۔
کرس نولن نے حتی الوسع گرین سکرین اور سی جی آئی کے استعمال سے گریز کیا، یعنی جہاں آپ فلم میں بحری جہاز دیکھتے ہیں وہ بحری جہاز ہی ہے اور وہ سمندر میں ایک ماہ سے زائد عرصہ رہا۔ جہاں ساٹھ فٹ کا جن دیکھانا مقصود تھا وہاں Animatronics کے استعمال سے ساٹھ فٹ کا جن ہی بنایا۔ اسکے بعد سی جی آئی اور گرافک ایفیکٹس شامل کئیے گئے۔
فلم (یا ہومر کی نظم) علامتی طور پر مردوں کی افتاد طبع، عورت کے کردار کی مضبوطی اور جنگوں تباہ کاری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
منفی پہلو
کرسٹوفر نولن فلم کی زبان کے بارے میں کنفیوز نظر آتے ہیں، ایک طرف تو وہ فلم کے کرداروں کو تین ہزار سال پرانے لباس، برتن اور جنگی آلات استعمال کرتے دیکھاتے ہیں دوسری طرف وہی کردار امریکن انگلش (جو کو ڈھائی سو سال سے زیادہ پرانی نہیں) بولتے دیکھا رہے ہیں۔ ایک جگہ ایک کردار مام اینڈ ڈیڈ جیسے الفاظ ادا کر رہا ہے، ایک اور جگہ پہ سمندر میں بحری جہاز کو بائیں طرف الٹنے سے بچانے کیلئیے وزن دائیں طرف ڈالنا تھا تو ایک کردار بولا ‘تھری، ٹو، ون’..
اوڈیسی فلم میں اوڈیسئیس کو جس بحری جہاز پر دیکھایا گیا اسکی ایجاد ہومر کے مرنے کے کم از کم بارہ سو سال بعد وائی کنگز نے کی۔ اس سائیز اور اس سٹائل کے بحری جہازوں کا استعمال ٹروئے کی جنگ جو کہ وائی کنگز سے اٹھارہ سول سال قبل ہوئی اس وقت وجود نہیں تھا۔
فلم اوڈیسئیس کے نابینا دوست کا کردار ادا کرنے والے جان لوگزیامو کا ایک سین جس میں اوڈسئیس سے بیس سال بعد ملاقات ہوتی ہے اور یہ سین جو کہ چار فریمز پر مشتمل ہے اس میں تین فریمز میں روتے ہوئے جان لوگزیامو کی ناک گندی نظر آتی ہے اس شاٹ جے دوران چوتھے فریم میں اچانک ناک صاف ستھری ہو جاتی ہے۔ نولن جیسے کہنہ مشق ہدایتکار سے ایسی غلطیوں کی توقع نہیں ہوتی۔
ایک سین میں جہاں اوڈیسئیس ٹروئے کو فتح کرنے کے فلیش بیک میں نظر آتا ہے وہاں ٹروئے شہر میں قتل عام کے دوران بھاگتے ہوئے بلیک کلر کے تسموں والے رننگ شوز پہن کر بھاگتا نظر آیا، حالانکہ تاریخی طور پر اس دور میں جنگوں میں بھی ہاتھ سے بنے ہوئے ہلکے سینڈلز پہنے جاتے تھے۔
ایک سین میں ایک کردار برونز ایج کا ذکر کر رہا ہے، حالانکہ آئس ایج، آئیرن ایج، برونز ایج اور انڈسٹریل ایج جیسی اصطلاحات بیسیویں صدی کی تحقیق اور ایجاد ہیں۔
ایک سین میں جہاں اوڈیسئیس ایک جزیرے پر بکروں کی قربانی کیلئیے جا رہا ہے وہاں بیک گراؤنڈ میوزک میں لیزرز چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔
– فلم میں اوڈیسییس کی فوجوں کے ہیلمٹ بیٹمین سٹائل ہیں اور واضح طور پر پلاسٹک کے بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔
فلم کی ایڈیٹنگ خاصی کمزور ہے، اگر مناسب ایڈٹنگ کی جاتی تو فلم کا دورانیہ کم از کم پینتالیس منٹ کم ہو سکتا تھا، کمزور ایڈٹنگ کے باعث فلم کا ٹیمپو کافی سلو ہے، فلم اس قدر سلو ہے کہ پہلی دفعہ جب فلم کا کوئی سر پیر سمجھ آنا شروع ہوا تو میں نے گھڑی پر وقت دیکھا، فلم شروع ہوئے پینتیس منٹ گزر چکے تھے۔
فلم میں ایک کردار شروع اور آخر میں لکڑی کے فرش پر ڈنڈا بجا بجا کر نعرے لگا رہا ہے، ہر بار جب وہ ڈنڈا فرش پر مارتا ہے تو نعرہ لگانے سے قبل چار سے پانچ بار ڈنڈا بجاتا ہے، یہ سین آئی میکس سینما کے ساؤنڈ سسٹم پر فلم بینوں کی سماعت پر ایک ٹارچر ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ سین فلم کے آخر میں کم از کم پانچ سے سات منٹ جاری رہتا ہے جسکی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔
کرسٹوفر نولن نے دانستہ طور پر پوسیڈون اور سائیکلوپس کی اوڈیسئیس بارے شکایت اور سائیرنز کا اوڈسئیس کی فوج کو گمراہ کرنے کے اہم حصے فلم سے کاٹ دیئے، جس سے ایسے افراد جو جو ہومر کی اوڈیسی سے واقف ہیں انکے لئیے یہ خاصا حیرت کا باعث بنے۔
فلم کے ایک آدھ کردار کے سوا کوئی بھی کردار اچھی ایکٹنگ کرتا نظر نہیں آیا، خاص طور پر اوڈیسییس کے لڑکے کا کردار ادا کرنے والے ٹام ہالینڈ کی ایکٹنگ نہایت واہیات نظر آتی ہے۔
فلم کا کاسٹنگ ووکزم کا شکار نظر آئی جس کا تاریخی اور جغرافیائی حقائق سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، اوڈیسئیس کی فوج میں انڈین، جاپانی اور افریقی نظر آئے جو کہ اس دور کے جغرافیائی حقائق کے مطابق درست نہیں، اتھاکا کی ہیلن ایک سیاہ فام خاتون کو دیا گیا جو کہ یونانیوں کی اس دور کی براؤن رنگت سے کسی طور مماثلت نہیں رکھتا۔
اگر آپ فلم کے تاریخی اور جغرافیائی حقائق سے واقف نہیں ہیں یا یہ امور آپکے لئیے اہمیت کے حامل نہیں، فلم میں اغلاط سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس فلم کا آئی میکس گرینڈیوز، سینماٹوگرافی وغیرہ آپکو بہت لطف دے گا، لیکن اگر آپ فلم کو اسکے تاریخی حقائق کے تناظر میں ایک بہترین ہدایتکاری اور اداکاری کے نمونے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ فلم آپکے معیار اور ذوق پر پوری نہیں اترے گی۔
اگر ایک جملے میں فلم کا احاطہ کیا جائے تو وہ جملہ یہ ہوگا:
“آئی میکس اور کرسٹوفر نولن جیسے ٹیگز فلم سے ہٹا لئیے جائیں تو یہ ایک اوسط درجہ سے کم تر فلم ہے”
نیز: فلم کے بارے یہ میری رائے ہے، اس سے کسی کا متفق ہونا لازم نہیں۔
Leave a Reply