'یار۔۔ایک تیرے لئیے خبر ہے۔۔۔' فون پر سکاٹ لینڈ سے چھوٹا بھائی فرحان تھا۔'ہاں کہو۔۔خیریت ہے نا' میں نے پوچھا۔'لئیق انکل گزر گئے' فرحان نے بتایا۔'ارے۔۔۔اناللہ و انا الیہہ رجعون۔۔۔یہ کب ہوا؟' میرے منہ سے بے ساختہ نکلا، پیٹ میں ایک گھونسا سا پڑا تھا۔بات پرانی تھی، سمجھنے کیلئیے ضروری ہے کہ ماضی کے چند... Continue Reading →
ظفر، وسیلہء سفر
کچھ تحریریں اس لئیے ہوتی ہیں کہ وہ لکھی جائیں، اور بس پڑھی جائیں۔ لازم نہیں کہ ہر تحریر میں اخلاق سدھار یا سماج سدھار اسباق پنہاں ہوں۔ سبق اسباق تو ہمارے آس پاس جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں مگر کوئی سیکھنے والا بھی تو ہو، لہذٰا ناسٹیلجیا پر مبنی چند لمحات کو ارد گرد... Continue Reading →
ساڑھے بارہ روپے
وسط اسی کی دہائی میں سرکاری نوکری کے دوران والد صاحب کا تبادلہ جب گوجرہ شہر ہوا تو ہماری عمر یہی کوئی آٹھ یا نو برس ہوگی۔ تیسری سےچوتھی جماعت میں ترقی پائی ہی تھی کہ ایک اجنبی شہر کے اجنبی سکول میں داخل ہونا پڑ گیا، سکول کی بابت کہانی پھر کبھی سہی کہ... Continue Reading →
سرشار آدمی
ارشد سے ملاقات عجیب صورتحال میں ہوئی تھی، ہوا کچھ یوں کہ میٹرک کے امتحانات سے فراغت ہوئی تو ہمارے دوست آصف کی گاڑی کو ایک ٹرک والا موڑ کاٹتے ہوئے ازراہ کرم ایکسیڈنٹ کر کے فرار ہو گیا، گاڑی کا اچھا خاصا نقصان ہوا اور باڈی مرمت کا کام نکل آیا۔ شہر کی ڈینٹنگ... Continue Reading →
بی آر آئی، پمی اور سی کلاس
"اب انکی طبیعت کیسی ہے؟" کمرے میں موجود پچیس چھںیس سال کے نوجوان نے پوچھا۔ ۔ "کچھ خاص نہیں، بس کچھ دنوں سے دیوار پر لگی اس تصویر کو دیکھتے رہتے ہیں"..گہرے نیلے رنگ کا میڈیکل نرسوں والا لباس پہنے ہوئی نرس نے وہیل چییر پر بیٹھے بوڑھے مریض کی طرف اشارہ کر کے جواب... Continue Reading →
چاندنی رات کے مسافر
یہ سن دو ہزار کی دہائی کے وسط میں ان دنوں کی بات ہے جب پاکستانی اخبارات انٹرنیٹ پر نئی نئی منتقل ہونا شروع ہوئی تھیں۔ اس عمل سے ہم جیسے سمندر پار پاکستانیوں کیلئیے بہت سہولت ہو گئی تھی، اخبار پڑھنے کا چسکا چونکہ گھر سے ہی ملا تھا تو وطنِ عزیز سے باہر... Continue Reading →
سخی بادشاہ
بات فالج کے دوسرے حملے سے شروع ہوئی، ابو پر فالج کا پہلا حملہ سترہ سال قبل ہوا تھا جسکو انہوں نے خدا کے فضل کے بعد اپنی مضبوط قوتِ ارادی، مناسب علاج اور اہلِ خانہ کی نگہداشت سے یوں شکست دی کہ ایک ہاتھ میں معمولی سے کمزوری باقی رہ گئی تھی۔ لیکن یہ... Continue Reading →
اعوان صاحب کا آدمی
مکرم صاحب میرے کولیگ اور دوست کلیِم کے روم میٹ تھے۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں وفاقی دارالحکومت میں مواصلات کے ایک قومی ادارے میں بطور سوفٹ ویئر انجینئر ملازم ہوا کرتا تھا۔ سیکٹر جی ایٹ فور اتوار بازار کے قریب ایک کمرے کے فلیٹ میں کلیم اور مکرم صاحب رہائش پذیر... Continue Reading →
دو ٹوٹا کار والا موت کا کنواں
لڑکپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیالی گاؤں جانا ہوتا تو دلچسپی کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ گاؤں کے قریب واقعہ بابا حیدر شاہ کی خانقاہ پر میلہ دلچسپی کا خصوصی مرکز ہوتا۔ آس پاس کے دیہات خانقاہ سے خصوصی عقیدت رکھتےاور یوں سال بھر جاری صدقے کی نذر نیاز کےعلاوہ یہ میلہ علاقے میں چند... Continue Reading →
اعتقاد
کسی دور میں شہروں میں پرچی جوا کھیلنے کی لت عروج پر تھی تو ایک شہر میں کسی شخص کی پرچی لگ گئی یعنی اسکا جوئے کی بازی میں انعام نکل آیا۔ اسکے یاروں دوستوں نے اسے تنگ کر مارا کہ سچ بتاؤ پرچی کا نمبر کس پیر صاحب نے بتایا ہے؟ وہ شخص جب... Continue Reading →